سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 262

سيرة النبي الله 262 جلد 2 رسول کریم ﷺ کو تین چیزیں بہت پسند تھیں 1924ء میں جب حضرت مصلح موعود سفر یورپ سے واپس تشریف لائے تو 24 نومبر 1924ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں بعد <mark>نماز</mark> عصر حضرت مولانا شیر علی صاحب کے سپاس نامہ کے جواب میں آپ نے تین چیزوں کا ذکر فرمایا جو رسول کریم ﷺ کو بہت پسند تھیں فرمایا :۔اب دیکھو خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا بندوں کو حکم ہے مگر خدا تعالیٰ یہی نہیں کہتا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی مخلوق سے بھی محبت کرو اور رسول کریم می فخر کرتے ہیں کہ تین چیزیں مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں اور ان سے میں محبت کرتا ہوں۔چنانچہ فرماتے ہیں حُبّبَ إِلَى مِنْ دُنيَاكُمْ ثَلاتُ الطَّيِّبُ وَالنِّسَاءُ وَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة 1۔کہ مجھے ایک تو خوشبو کی محبت ہے، ایک عورتوں کی اور ایک <mark>نماز</mark> کی۔اب اگر غور سے دیکھا جائے تو ان تین چیزوں کی کامل محبت رسول کریم علی میں پائی جاتی ہے اور اس قدر پائی جاتی ہے کہ اس کی نظیر اسلام کے سوا اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔طبیب سے مراد خوشبو اور صفائی ہے اور نبی کریم ﷺ سے پہلے کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں صفائی پر اس قدر زور دیا گیا ہو جس قدر اسلام نے دیا ہے۔پہلے مذاہب میں یہی کمال سمجھا جاتا تھا کہ انسان میلا اور گندا رہے۔آج تک کئی پادری ناخن تک نہیں اُتر واتے اور جتنی زیادہ غلاظت ان کے ناخنوں میں ہو اتنے ہی زیادہ خدا رسیدہ سمجھے جاتے ہیں وہ سالہا سال تک نہاتے نہیں۔لیکن محمد علیہ فرماتے ہیں طیب یعنی صفائی نہایت ضروری ہے اور اس بات کو آپ نے ہی قائم فرمایا اور اس صلى الله