سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 243

سيرة النبي علي 243 جلد 2 چھید تے تھے جس طرح کہ کپڑا سیتے ہیں مگر وہ ان سب باتوں کو برداشت کرتے تھے اور عذاب کے وقت کہتے جاتے تھے کہ وہ ایک خدا کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ایک عورت جو نہایت ہی پختہ مسلمان تھی اس کے پیٹ میں نیزہ مار کر اس کو مار دیا گیا۔آپ پر لوگوں کے ظلم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بہت دکھ دیتے تھے ، گوڈرتے بھی تھے کیونکہ آپ کے خاندان کی مکہ میں بہت عزت تھی۔لوگ آپ کو گالیاں دیتے ، بعض دفعہ نماز میں جب آپ سجدہ کرتے تو سر پر اوجھری ڈال دیتے 10 کبھی سر پر راکھ پھینک دیتے۔ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ ایک شخص آپ کی گردن پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا اور دیر تک اس نے آپ کو اس طرح دبائے رکھا۔ایک دفعہ آپ عبادت کے لئے خانہ کعبہ میں گئے تو آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹنا شروع کر دیا 11۔مگر باوجود ان مخالفتوں کے آپ تبلیغ میں لگے رہتے اور ذرا پرواہ نہ کرتے۔آپ کا تعلیم دینا جہاں بھی لوگ بیٹھے ہوتے آپ وہاں جا کر ان کو تعلیم دیتے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی ، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔نہ زمین میں نہ آسمان میں، اس کا کوئی شریک نہیں۔اس پر ایمان لانا چاہئے اور اس سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔وہ لطیف ہے اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔اس میں سب طاقتیں ہیں۔اسی نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور جب لوگ مر جاتے ہیں تو ان کی روحیں اسی کے پاس جاتی ہیں اور ایک زندگی ان کو دی جاتی ہے۔اور چاہئے کہ اس کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کریں اور اس سے تعلق کو مضبوط کریں اور اس کے قریب ہونے کی خواہش کریں اور اپنے خیالات اور اپنی زبان کو پاک کریں۔کوئی جھوٹ نہ بولے، قتل نہ کرے، فساد نہ کرے، چوری نہ کرے، ڈاکہ نہ مارے، عیب نہ لگائے ، طعنہ نہ دے، بد کلامی نہ کرے، ظلم نہ کرے، حسد نہ کرے اور اپنے وقت کو اپنے آرام اور