سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 244
سيرة النبي علم 244 جلد 2 عیاشی میں صرف نہ کرے بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی اور بہتری میں گزارے اور محبت اور اُنس کی اشاعت کرے۔مشرکوں کی حالت کا نقشہ یہ تعلیم تھی جو آپ دیتے مگر باوجود اس کے کہ یہ تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی لوگ آپ پر ہنتے۔مکہ کے لوگ سخت بت پرست تھے اور سینکڑوں بت بنا کر اپنے معبد میں رکھے ہوئے تھے جن کے سامنے وہ روزانہ عبادت کرتے تھے اور جن کے آگے باہر سے آنے والے لوگ نذرانے چڑھاتے تھے جن پر کئی معزز خاندانوں کا گزارہ تھا۔ان لوگوں کے لئے ایک خدا کی عبادت بالکل عجیب تعلیم تھی وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کیوں انسان کی شکل میں کسی پتھر کے بت میں ظاہر نہیں ہوسکتا۔وہ ایک نہ نظر آنے والے خدا کا تخیل ناممکنات سے سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپ کو دیکھتے ، ہنتے اور کہتے کہ دیکھو! اس شخص نے سب خداؤں کو اکٹھا کر دیا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ کئی خداؤں کے ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے اس سے مراد ان کی یہ ہے کہ انہوں نے اب سب خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک ہی بنا دیا ہے اور اپنی اس غلط فہمی کی بیہودگی کو آپ کی طرف منسوب کر کے خوب قہقہے لگاتے۔بعث بعد الموت کا عقیدہ بھی ان کے لئے عجیب تھا۔وہ ہنستے اور کہتے کہ یہ شخص خیال کرتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے۔حبشہ کو ہجرت کرنا جب مسلمانوں کی تکلیفیں بہت بڑھ بڑھ گئیں تو صحابہ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اجازت دے دی کہ وہ حبشہ کو جو اُس وقت بھی ایک مسیحی حکومت تھی ہجرت کر کے چلے جاویں۔چنانچہ اکثر مسلمان مرد و عورت اپنا وطن چھوڑ کر افریقہ کو چلے گئے۔مکہ والوں نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔بادشاہ کے پاس ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیں تا کہ ہم ان کو سزا دیں۔مسیحی بادشاہ بہت ہی منصف مزاج تھا جب اس کے پاس وفد پہنچا تو اس