سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 242
سيرة النبي الله 242 جلد 2 سکتا تھا کہ کوئی قوم اس پر حملہ کرنے آئے گی اور پھر یہ بھی بات تھی کہ مکہ کے جانور دور دور تک چرتے تھے اگر کوئی لشکر آتا تو ممکن نہ تھا کہ جانور چرانے والے اس سے غافل رہیں اور دوڑ کر لوگوں کو خبر نہ دیں۔مگر باوجود اس کے کہ یہ بات ناممکن تھی سب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات ضرور مان لیں گے کیونکہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔آپ نے فرمایا کہ جب تم گواہی دیتے ہو کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا تو میں تم کو بتا تا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں اس کا پیغام تم کو پہنچاؤں اور یہ سمجھاؤں کہ جو کام تم کرتے ہو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔یہ بات سنتے ہی لوگ بھاگ گئے اور کہا کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے یا جھوٹا ہےZ۔تمام شہر میں شور پڑ گیا اور جولوگ آپ پر ایمان لائے تھے ان پر نہایت سختیاں ہونے لگیں۔بھائی نے بھائی کو چھوڑ دیا، ماں باپ نے بچوں کو نکال دیا، آقاؤں نے نوکروں کو دکھ دینا شروع کیا، چودہ چودہ پندرہ پندرہ سالہ نوجوانوں کو جو کسی رسم و رواج کے پابند نہ تھے بلکہ مذہب کی تحقیق میں اپنی عقل سے کام لیتے تھے اور اسی لئے جلد آپ پر ایمان لے آتے تھے ان کے ماں باپ قید کر دیتے اور کھانا اور پانی دینا بند کر دیتے تا کہ وہ تو بہ کر لیں مگر وہ ذرہ بھی پرواہ نہ کرتے تھے اور خشک ہونٹوں اور گڑھوں میں گھسی ہوئی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔یہاں تک کہ ماں باپ آخر اس ڈر سے کہ کہیں مر نہ جائیں ان کو کھانا پینا دے دیتے۔نوجوانوں پر تو رحم کرنے والے لوگ موجود تھے مگر جو غلام آپ پر ایمان لائے ان کی حالت نہایت نازک تھی۔اور یہی حال دوسرے غرباء کا تھا جن کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔غلاموں کو لوہے کی زرہیں پہنا دیتے تھے اور پھر ان کو سورج کے سامنے کھڑا کر دیتے تھے تا کہ موسم گرم ہو کر ان کا جسم جھلس دے ( یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ عرب کا سورج تھا نہ کہ انگلستان کا ) بعض کی لاتوں میں رسیاں ڈال کر ان کو زمین پر گھسیٹتے تھے۔بعض دفعہ لوگ لوہے کی سیخیں گرم کر کے ان سے مسلمانوں کا جسم جلاتے تھے اور بعض دفعہ سوئیوں سے ان کے چمڑوں کو اس طرح