سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 207

سيرة النبي علي 207 جلد 2 گیا ہے اور دوسری طرف آخری علاج کے طور پر اس کی اجازت بھی دی گئی ہے اختیار نہیں کرنا چاہتا اور خدا کی بات کو چھوڑ کر خود نئے قوانین بنانا چاہتا ہے جس کا نتیجہ ابھی سے خراب نکلنا شروع ہو گیا ہے اور طلاق کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی سے نکاح کا وہ تقدس جو اہلی زندگی کی روح رواں ہے برباد ہو رہا ہے اور خطرہ ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بنیا دکھوکھلی ہو کر اوپر کی عمارت کو بھی صدمہ پہنچا دے۔اب رہا کثرت ازدواج کا مسئلہ اس کی طرف ابھی تک مغرب نے سنجیدگی سے توجہ نہیں کی لیکن آخر اس کو ایسا کرنا پڑے گا کیونکہ قدرت کے قوانین کا مقابلہ دیر تک نہیں کیا جا سکتا۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک عیاشی کا ذریعہ ہے لیکن اگر اسلام کے احکام پر غور کیا جائے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ عیاشی نہیں بلکہ قربانی ہے اور قربانی بھی عظیم الشان قربانی۔عیاشی کسے کہتے ہیں؟ اسی کو کہ انسان اپنے دل کی خواہش کو پورا کرے مگر اسلامی احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ شادیوں میں دل کی خواہش کس طرح پوری ہوسکتی ہے؟ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایک بیوی خواہ کتنی بھی پیاری ہو اس کے ساتھ ظاہری معاملہ میں فرق نہ کرو۔تمہارا دل اسے خواہ اچھا لباس پہنانے کو چاہتا ہو مگر تم اس کو وہ لباس نہیں پہنا سکتے جب تک کہ دوسری کو بھی ویسا ہی لباس نہ پہناؤ۔تمہارا دل خواہ اسے عمدہ کھانا کھلانے یا اس کے پاس نوکر رکھ دینے کو چاہتا ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے جب تک کہ ایسا ہی سلوک دوسری بیوی سے نہ کرو۔تمہارا دل خواہ ایک بیوی کے گھر کتنا ہی رہنے کو چاہتا ہو مگر اسلام کہتا ہے کہ تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے جب تک اسی قدر تم دوسری بیوی کے پاس نہ رہو یعنی برابر کی باری مقرر کرو۔پھر تمہارا دل ایک بیوی سے خواہ کس قدر ہی اختلاط کو چاہتا ہو اسلام کہتا ہے بے شک تم اپنے دل کی خواہش کو پورا کرو مگر اسی طرح تمہیں اپنی دوسری بیوی کے پاس جا کر بیٹھنا ہو گا۔غرض سوائے دل کے تعلق کے جو کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا سلوک، معامله امداد، خیر خواہی کسی امر میں فرق کرنے کی اجازت نہیں ہے۔کیا یہ