سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 208

سيرة النبي علي 208 جلد 2 زندگی عیاشی کی کہلا سکتی ہے یا یہ قوم اور ملک کے لئے یا ان فوائد کے لئے جن کے لئے دوسری شادی کی جاتی ہے ایک قربانی ہے اور قربانی بھی کتنی بڑی قربانی۔کیسا دکھ اور صدمہ ہوتا ہے یہ د دیکھ کر کہ جو لوگ اسلامی احکام سے ایک ذرہ بھر بھی واقفیت نہیں رکھتے وہ صرف یہ سن کر کہ رسول کریم ﷺ نے ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں یہ اعتراض کر بیٹھے ہیں کہ آپ کے اخلاق نَعُوذُ بِاللہ بعد میں آکر خراب ہو گئے تھے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ملک اور قوم کی بہتری کے لئے شادیاں کیں اور آپ کے انصاف کا حال پڑھ کر انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آپ کو عدل کا اس قدر خیال تھا کہ آپ مرض کے شدید بخار کی حالت میں دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر جب کہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے ایک بیوی کے گھر سے دوسری بیوی کے گھر جاتے تھے۔حتی کہ وفات سے چند دن پہلے آپ کی بیویوں نے درخواست کی کہ آپ کو تکلیف ہوتی ہے آپ ایک ہی گھر میں آرام سے رہیں اور خود ہی انہوں نے عائشہ کا گھر تجویز کیا ہے۔بعض ایک سے زیادہ شادیوں کو ظلم قرار دیتے ہیں مگر یہ ظلم نہیں کیونکہ ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں جب شادی نہ کرنا ظلم ہو جاتا ہے۔ایک عورت جو پاگل ہو جائے ، کوڑھی ہو جائے یا اس کی اولاد نہ ہو اُس وقت اس کا خاوند کیا کرے؟ اگر وہ دوسری شادی نہیں کرے گا اور کسی بد کاری وغیرہ میں مبتلا ہو گا تو یہ اس کا اپنی جان اور سوسائٹی پر ظلم ہو گا اور اگر وہ کوڑھی ہے تو اپنی جان پر ظلم ہو گا۔اگر اولا د نہیں ہوئی تو قوم پر ظلم ہو گا۔اور اگر وہ پہلی عورت کو جدا کر دے تو یہ حد درجہ کی بے حیائی اور بے وفائی ہو گی کہ جب تک وہ تندرست رہی یہ اس کے ساتھ رہا اور جب وہ اس کی مدد کی سب اوقات سے زیادہ محتاج تھی اس نے چھوڑ دیا۔غرض بہت سے مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ دوسری شادی جائز ہی نہیں کہ یہ بہت کمزور لفظ ہے بلکہ ضروری نہیں بلکہ ایک قومی فرض ہو جاتا ہے۔