سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 206

سيرة النبي عالم 206 جلد 2 حقوق نسواں کے علمبردار احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں حضرت مصلح موعود نے عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے مغرب کے اعتراضات کو مدنظر رکھ کر رسول کریم ﷺ کو حقوق نسواں کا بہترین علمبر دار قرار دیا ہے۔آپ رقم فرماتے ہیں:۔چونکہ کئی مجبوریاں ایسی پیش آ جاتی ہیں جیسے بقائے نسل یا بقائے صحت یا ضروریات سیاسی وغیرہ جن میں ایک سے زیادہ شادیوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اسلام نے ایک سے زیادہ شادیوں کی بھی اجازت دی ہے مگر شرط یہ ہے کہ بیویوں میں انصاف قائم رکھا جائے۔لباس میں، خوراک میں، جیب خرچ میں، تعلقات وسلوک میں بیویوں سے بالکل یکساں برتا ؤ ہو۔باری باری ایک ایک عورت کے پاس خاوند رہے اور اگر ایسا نہ کرے تو رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کا حال ایسا ہی ہو گا کہ گویا وہ آدھے دھڑ کے ساتھ اٹھا ہے 1۔کثرت ازدواج پر عام طور پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اسی طرح طلاق پر، لیکن عجیب بات ہے کہ مغرب طلاق کی وجہ سے خدا کے مقدسوں کو پانچ چھ سوسال گالیاں دینے کے بعد اس بات کا قائل ہو رہا ہے کہ طلاق کی بھی کوئی صورت ضرور ہونی چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ملک کا تمدن برباد ہو رہا ہے۔کاش کہ وہ پہلے ہی سوچتا اور خدا کے برگزیدوں پر اعتراض کا خنجر نہ چلاتا اور کم سے کم بدکلامی نہ اختیار کرتا تا آج کی شرمندگی کا دن اسے میسر نہ آتا۔مگر افسوس ہے کہ یورپ اب بھی اسلام کے قانون کو جس میں سب پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے ایک طرف طلاق کو جس قدر ہو سکے روکا