سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 183
سيرة النبي الله 183 جلد 2 آنحضور عہ ایک عبد شکور حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1922ء کے خطاب میں رسول کریم میوہ کے بہترین شکرگزار ہونے کے حوالہ سے فرمایا:۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے کہا کہ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے سب کچھ معاف کر دیا پھر آپ تہجد کی نماز میں اس قدر کیوں کھڑے ہوتے ہیں کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟1 اس سے معلوم ہوا کہ عمل خدا تعالیٰ کے ملنے کے لئے ہی نہیں کئے جاتے بلکہ شکریہ کے طور پر بھی کئے جاتے ہیں اور جب رسول کریم صلى الله جیسا انسان بھی جو سب نیکوں کا سردار ہے اعمال سے مستغنی نہیں ہوتا تو اور لوگ کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں ؟“ (نجات صفحہ 115 ناشر الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ) 1 بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم صفحہ 856 حدیث نمبر 4837 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية