سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 182
سيرة النبي الله 182 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی صلى الله۔حضرت مصلح موعود اپنے خطاب جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1922ء میں فرماتے ہیں:۔اسلام رسول کریم ﷺ کے متعلق کہتا ہے کہ لوگوں کو کہہ دے! فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ 1 - رسول کریم ﷺ کا یہ دعویٰ مخالفین کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اے محمد ! ان کو کہہ دے کہ میں تم میں ہی پیدا ہوا، تم میں ہی جوان ہوا اور تم میں ہی بڑھاپے کو پہنچا۔تم ہی بتلاؤ کیا تم میرا کوئی عیب پکڑ سکتے ہو؟ پھر اگر رسول کریم ﷺ کی یہی حیثیت ہوتی کہ آپ نے کوئی گناہ نہ کیا ہوتا مگر آپ کی نیکیاں بھی نہ ہوتیں تو وہ کہہ دیتے کہ ہمیں کیا پتہ ہے تم پہلے کیسے تھے ہم تمہارے گناہ تلاش نہیں کرتے رہے مگر رسول کریم ﷺ کا وجود ان کے سامنے نمایاں تھا اور آپ کی نیکیوں کے وہ قائل تھے اس لئے کچھ نہ کہہ سکے۔یہاں سے ایک شخص محمد نصیب پیغامیوں میں چلا گیا ہے اس نے لکھا کہ میں نے اتنی عمر قادیان میں گزاری ہے کیا کسی کو میرے گناہ کا پتہ ہے؟ ہم کہتے ہیں یہاں تمہاری ہستی ہی کیا تھی کہ کسی کو تمہارے عیب کی طرف توجہ ہوتی۔یوں تو ایک چوہڑا بھی اٹھ کر کہہ سکتا ہے کہ کوئی میرا عیب تو بتاؤ ؟ تو اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا بلکہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ میری ایسی نمایاں زندگی تھی کہ نہ صرف یہ کہ میں گناہوں سے بچا بلکہ میں نے ایسے اعلیٰ کام کئے اور زندگی کا ایسا پاکیزہ نمونہ دکھا یا کہ تم نجات صفحہ 71 ناشر الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ) خود اعتراف کرتے ہو۔“ 1 يونس: 17