سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 184
سيرة النبي عمال 184 جلد 2 عسرویسر میں حمد الہی کرنے والا نبی علی صلى الله تحریک شدھی ملکانہ کے سلسلہ میں ہدایات کے دوران حضرت مصلح موعود نے رسول کریم ﷺ کے عسر ویسر میں حمد الہی کرنے کے حوالہ سے فرمایا:۔و جس وقت آنحضرت عیے مکہ میں تشریف رکھتے تھے اُس وقت آپ کو وہاں کھلے طور پر نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہ تھی۔مسلمان عورتیں گرم ریت پر لٹائی جاتی تھیں اور ان کی شرم گاہوں میں نیزے مارے جاتے تھے۔مسلمان تپتے ہوئے پتھروں پر لٹائے جاتے تھے اور ایسے ایسے عذاب دے کر ان کو اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔وہ ایسا وقت تھا کہ مسلمان گلیوں میں بھی نہ پھر سکتے تھے اور ناچار ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔اُس وقت اللہ تعالی محمد ﷺ کو کہتا ہے الْحَمْدُ لِلہ پڑھ اور آپ نے پڑھا اور سچے دل سے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں۔میرے ارد گرد تو خوشیاں ہی خوشیاں ہیں کوئی رنج نہیں کوئی دکھ نہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ میں اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 1 نہ کہوں۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس وقت ان حالات میں کوئی اور خوش ہو سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔مگر جہاں ابتدا الْحَمْدُ سے ہوئی وہاں اخیر بھی آخِرُ دَعُوهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 2 پر ہے۔چنانچہ خدا کے فضلوں نے ثابت کر دیا کہ کون راستی پر تھا اور کس کو طاقت اور فو قدرت حاصل ہوئی تھی۔آپ کے مخالف اور مخالفتیں سب اڑ گئیں اور سکھ مسلمانوں کے لئے ہی رہ گیا ہے۔دنیا وی راحت میں دوسرے بھی شریک تھے لیکن روحانی راحت اور آرام کا مسلمانوں کے سوا کہیں پتہ نہ تھا۔کیونکہ گو وہ خود کو چاروں طرف سے دشمنوں