سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 4
سيرة النبي علم 4 جلد 2 سے گزرا یا کسی بچہ نے اینٹ مار دی وہ بچہ مر گیا اور انڈے پھوٹ گئے۔اس اتفاقی واقعہ نے ان کے جذبات درندگی کو بھڑکا دیا اور انہوں نے بڑھ کر اس اونٹ کو مار دیا اور بچہ کی گردن اڑا دی۔اور کہا کہ ہماری ہتک کی گئی کہ ہمارے کھیت میں انڈے دینے والی فاختہ کے انڈے توڑ دیئے گئے اور کتیا کا پلہ مار دیا گیا۔پھر ان میں تلوار چلتی ہے اور ایک آدھ دن یا ایک مہینہ یا ایک آدھ سال میں ختم نہیں ہوتی برسوں گزر جاتے ہیں۔چنانچہ بعض لڑائیاں ایک صد سال تک چلی ہیں۔یورپ میں ”ہنڈرڈ ائر وار ہوئی ہے اس کی وجہ یہی تھی جو میں نے بتائی۔پھر وہ تربیت کے اتنے دلدادہ تھے کہ ذراسی بات میں ان کی ہتک عزت خودسری ہو جاتی تھی۔عرب کا ایک بادشاہ ہوا ہے اس نے عرب کے بہت سے ملک کو فتح کیا۔اس کو خیال ہوا کہ اب میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور میری اطاعت سے کوئی شخص آزاد نہیں ہو سکتا۔ایک دن اس نے اپنے دربار میں کہا کہ کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ وہ اور اس کی ماں میری ماں کی خدمت وفرمانبرداری نہ کرے۔اس کو کہا گیا کہ ہاں قریب ہی فلاں قبیلہ کا ایک شخص ہے وہ آپ کی اور اس کی ماں آپ کی ماں کی فرمانبرداری نہیں کریں گے۔اس بات کی آزمائش کے لئے بادشاہ نے اس کو اور اس کی ماں کو بطور مہمان بلایا۔اپنے خیمہ میں ٹھہرایا اور اس کی ماں کو اپنی ماں کے پاس دوسرے خیمہ میں بھیج دیا۔بادشاہ نے ماں کو سکھا دیا تھا کہ کسی حکمت عملی سے اس سے کوئی کام لینا۔جب باہر کھانا بھیجنے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں کھانا کھانے لگی تو اس شخص کی ماں سے کہا کہ فلاں برتن پکڑا نا تا کہ میں باہر کھانا لگا کر بھیج دوں۔اس پر وہ عورت کھڑی ہو گئی اور اپنے قبیلہ کا نام لے کر کہنے لگی کہ کیا تم میں کوئی بھی غیرت دار نہیں رہا کہ آج تمہارے سردار کی ماں کی بے عزتی کی گئی۔جونہی اس شور کی آواز باہر مردانے خیمہ میں گئی اس کے بیٹے نے اس بات کی تحقیق نہیں کی کہ حقیقت کیا ہے فوراً اٹھا اور بادشاہ کی تلوار لے کر اسی سے بادشاہ کی گردن اڑا دی اور کہا کہ تحقیق بعد میں