سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 5

سيرة النبي عمال 5 جلد 2 کروں گا پہلے اپنی ماں کی بے عزتی کا بدلہ لے لوں۔چنانچہ اس سے فارغ ہو کر زرو جواہر لے کر چلتا بنا۔یہ عالم تھا عرب کی آزادی اور حریت کا کہ وہ کسی کے اتنا کہہ دینے کو کہ برتن پکڑا دینا اپنی ہتک عزت خیال کرتا تھا اور کہنے والے کی جان لئے بغیر نہ ٹلتا تھا۔عرب کے ملک کی یہ کیفیت تھی جب اس میں نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے۔صلى الله نبی کریم ﷺ نے عرب کی کایا پلٹ دی اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اس ملک کی ان تمام بد عادات ، بد عقائد، بدرسوم کو کس طرح بدل کر انہیں کیا سے کیا بنا دیا۔سب سے پہلے ان کے مذہب کو لیتے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ وہ بت پرست تھے اور پھر بت پرستی عرب سے مٹادی تلہ والوں کی سبیل معاش بھی بت پرستی ہی تھی اور آنحضرت ﷺ کا جس خاندان سے تعلق تھا وہ گویا مجاور تھا ان بتوں کا۔اب غور کرنا چاہئے کہ وہ لوگ جن کا گزارہ ہی بتوں کے چڑھاوے پر ہو اور ان کے لئے اور کوئی سبیل معاش نہ ہو علاوہ مذہبی طور پر ایک بڑی بات ہونے کے کہ اپنے قدیم خیال کا ترک کرنا مشکل ہوتا ہے ان کی دنیا کے لئے بھی کتنا کٹھن کام تھا۔لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے اس بت پرستی کو اس جگہ سے ایسا اڑا دیا کہ اس کا نشان تک مٹا دیا۔اور آج تک اس بت پرستی کے محو کرنے کے نشان کے طور پر ایک مؤذن کہتا ہے اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ لوگ جن کی معاش ہی بتوں پر تھی بتوں سے سخت بیزار ہو گئے اور کوئی سخت سے سخت مصیبت بھی ان کو بت پرستی پر مائل نہ کر سکی۔شراب چھڑا دی وہ شراب نوش تھے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنی شراب نوشی پر فخر کیا کرتے تھے اور چار پائی سے نہیں اٹھتے تھے جب