سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 3
سيرة النبي عمال 3 جلد 2 لندن میں جس قدر شراب پندرہ سال میں پی جاتی ہے اگر اس کو جمع کر کے لنڈھایا جائے تو اس سے ایک دریا بہہ نکلے۔باوجود اس قدر شراب نوشی کے لندن اپنی شراب نوشی پر فخر نہیں کرتا۔اس میں شراب نوشی ایک گالی خیال کی جاتی ہے۔چنانچہ ڈرنکرڈ (Drunkard) کا لفظ وہاں بطور گالی کے استعمال ہوتا ہے۔مگر عرب شراب نوشی کو معیوب نہیں جانتا۔وہ شراب نوش کو گالی نہیں دیتا بلکہ دوستوں میں فخر کے طور پر کہتا ہے کہ میں زیادہ شراب پیتا ہوں۔قمار بازی پر فخر پھر جوئے بازی ہے آج بھی دنیا میں بڑے بڑے جوئے باز ہیں اور بہت بڑی بڑی جوئے بازی ہوتی ہے اور بڑی بڑی لاٹریاں پڑتی ہیں۔جوئے بازی کی اس کثرت کے باوجود یورپ جوئے بازی کو فخر نہیں جانتا۔مگر عرب جوئے بازی کو بھی معیوب خیال نہیں کرتا۔وہ جوا کھیلتا ہے اور ہارتا ہے پھر دوستوں کے مجمع میں فخریہ اظہار کرتا ہے کہ میں وہ ہوں جو ایسا جوا کھیلنے والا ہوں اور اتنی دفعہ ہارا ہوں۔وہ اپنی رسوم کا اتنا پابند ہے کہ دنیا کی متمدن قوموں پابندی رسوم جاہلیت سے ملنے کے باوجود بھی ان فتیح رسوم سے کنارہ کش۔نہیں ہوتا۔ان میں رواج تھا کہ جب ایک شخص فوت ہوتا تو اس کے لڑکے اپنی سوتیلی ماؤں کو ترکہ کے طور پر تقسیم کرتے اور بطور بیویوں کے اپنے استعمال میں لاتے۔وہ ایرانیوں سے ملتے ہیں جو ایک متمدن ہیں۔وہ رومیوں سے تعلقات تجارت کے باعث ملتے ہیں جو ایک متمدن اور ترقی یافتہ قوم ہے۔اس میل ملاپ کا قدرتی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ ان رسوم فتیح کو چھوڑ دیتے۔مگر ان میں اور ترقی کرتے ہیں اور ان رسوم میں بڑھتے جاتے ہیں۔وحشت و درندگی ان کی درندگی کی یہ کیفیت ہے کہ مثلا کسی کھیت میں کہتیا نے بچے دیے یا کسی فاختہ نے انڈے دیئے ہیں کسی کا اونٹ ادھر