سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 162
سيرة النبي الله 162 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی اعلی وارفع شان دعوۃ الا میر کتاب میں حضرت مصلح موعود حیات مسیح کے عقیدہ کو ہتک رسول قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ کے بعد ہمیں خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ سے محبت ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو سب انبیاء سے بڑا درجہ دیا ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے آپ ہی سے ملا ہے اور جو کچھ آپ نے ہمارے لئے کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی اور کسی انسان نے خواہ نبی ہو یا غیر نبی ہمارے لئے نہیں کیا۔ہم آپ سے زیادہ کسی اور انسان کو عزت نہیں دے سکتے۔ہمارے لئے یہ بات سمجھنی بالکل ناممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو زندہ آسمان پر چڑھا دیں اور محمد رسول اللہ علیہ کو زیر زمین مدفون سمجھیں اور پھر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھیں کہ آپ مسیح سے افضل بھی ہیں۔کس طرح ممکن ہے کہ وہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذرا سا خطرہ دیکھ کر آسمان پر اٹھا لیا ادنیٰ درجہ کا ہو اور وہ جس کا دور دور تک دشمنوں نے تعاقب کیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے ستاروں تک بھی نہ اٹھایا اعلیٰ ہو۔اگر فی الواقعہ مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور ہمارے سردار و آقا زمین میں مدفون ہیں تو ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی موت نہیں اور ہم مسیحیوں کو منہ بھی نہیں دکھا سکتے۔مگر نہیں یہ بات نہیں خدا تعالیٰ اپنے پاک رسول سے یہ سلوک نہیں کر سکتا۔وہ احکم الحاکمین ہے یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو سَيِّدُ وُلدِ آدم بھی بناتا اور پھر مسیح علیہ السلام سے زیادہ محبت کرتا اور ان کی تکالیف کا زیادہ خیال رکھتا۔جب اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے ایک دنیا کو