سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 163
سيرة النبي عالم 163 جلد 2 زیر و زبر کر دیا اور جس نے آپ کی ذرا بھی ہتک کرنی چاہی اسے ذلیل کر دیا تو کیا ہوسکتا تھا کہ خود اپنے ہاتھ سے وہ آپ کی شان کو گرا تا اور دشمن کو اعتراض کا موقع دیتا ؟ میں تو جب یہ خیال بھی کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو زیرزمین مدفون ہیں اور حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میری جان گھٹنے لگتی ہے اور اسی وقت میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا نہیں کر سکتا۔وہ محمد رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا وہ اس امر کو ہرگز پسند نہیں کرتا تھا کہ آپ تو فوت ہو کر زمین کے نیچے مدفون ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ رہ کر آسمان پر جا بیٹھیں۔اگر کوئی شخص زندہ رہنے اور آسمان پر جا بیٹھنے کا مستحق تھا تو وہ ہمارے نبی کریم سے تھے اور اگر وہ فوت ہو گئے ہیں تو گل نبی فوت ہو چکے ہیں۔ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی اعلی شان اور آپ کے ارفع درجہ کو دیکھتے اور مقام کو پہچانتے ہوئے کس طرح تسلیم کر لیں کہ جب ہجرت کے دن جبل ثور کی بلند چٹانوں پر حضرت ابو بکرؓ کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر آپ کو چڑھنا پڑا تو خدا تعالیٰ نے کوئی فرشتہ آپ کے لئے نہ اتارا لیکن جب مسیح علیہ السلام کو یہودی پکڑنے آئے تو اس نے فوراً آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور چوتھے آسمان پر آپ کو جگہ دی۔اسی طرح ہم کیونکر مان لیں کہ جب غزوہ احد میں آنحضرت علیہ کو دشمنوں نے صرف چند احباب میں گھر ا پایا تو اُس وقت تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہ کیا کہ آپ کو کچھ دیر کے لیے آسمان پر اٹھا لیتا اور کسی دشمن کی شکل آپ کی سی بدل کر اس کے دانت تڑوا دیتا بلکہ اس نے اجازت دی کہ دشمن آپ پر حملہ آور ہو، آپ کالمیت زمین پر بے ہوش ہو کر جا پڑیں اور دشمن نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیا ہے لیکن مسیح علیہ السلام کے متعلق اسے یہ بات پسند نہ آئی کہ ان کو کوئی تکلیف ہو اور جو نہی کہ یہود نے آپ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اس نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور آپ کی جگہ آپ کے کسی دشمن کو آپ کی شکل میں بدل کر صلیب پر