سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 154

سيرة النبي عالم 154 جلد 2 رسول کریم مہ کا استغفار علی حضرت مصلح موعود نے رسول کریم اللہ کے استغفار کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔وو رسول کریم ﷺ نے یہ جوفر مایا ہے کہ جب میں کسی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو ستر بار استغفار پڑھتا ہوں 1 اس کا مطلب لوگوں نے غلط سمجھ کر یہ خیال کیا ہے کہ گویا نعوذ باللہ آپ بھی گنہگار تھے۔حالانکہ بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنے متعلق استغفار نہ پڑھتے تھے۔وجہ یہ کہ چونکہ آپ کا قلب بہت ہی صاف تھا اس لئے جب آپ مجلس میں بیٹھتے تو لوگوں کے جس قسم کے حالات ہوتے ان کا اثر رسول کریم ﷺ تک پہنچتا۔اور جب کسی کا برا اثر آپ تک پہنچتا تو آپ استغفار کرتے کہ اس میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔پھر جب دوسرے کا اثر پہنچتا تو پھر آپ استغفار کرتے۔کیونکہ نبی کو اپنے پیروؤں کی اصلاح کا خیال ہوتا ہے اور جب کسی میں کوئی کمزوری دیکھتا ہے تو اس کا دل دکھتا ہے۔پس رسول کریم ہے جو استغفار کرتے تھے وہ دوسروں کی حالت کی وجہ سے ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کر دے اور ان کی کمزوریوں کو دور کر دے۔اور ستر بار استغفار سے مراد کثرت سے استغفار کرنا ہے کیونکہ ستر کا عدد عربی میں کثرت کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ گن کر آپ ستر دفعہ استغفار کرتے تھے۔“ (الفضل 4 ستمبر 1922ء) 1: بخارى كتاب الدعوات باب استغفار النبي الله صفحه 1097 حدیث نمبر 6307 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية