سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 155

سيرة النبي عمال 155 جلد 2 و, اشاعت اسلام کے لئے جوش حضرت مصلح موعود اپنی جماعت کو تبلیغ اسلام کا فریضہ نبھانے کی طرف توجہ۔دلاتے ہوئے رسول کریم میہ کی مثال پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔دیکھو لوگ گندی چیز اٹھانے کے لئے دوسرے کو کہتے ہیں اور اچھی چیز کے متعلق ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ میں اٹھاؤں۔پھر اسلام سے بڑھ کر پاک اور اعلی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔پس اشاعت اسلام کے متعلق یہ مت سمجھو کہ خلیفہ کا کام ہے ہر شخص خدا کے حضور خلیفہ ہے اور ہر شخص اسلام کے لئے ذمہ وار ہے۔پس تم اس کو پھیلانے کے لئے دیوانوں جیسا جوش پیدا کرو اور سب سے مقدم اس فرض کو سمجھو۔دیکھو کیا رسول کریم یہ دولت نہ کما سکتے تھے ؟ آپ کو کمانے کا ایسا طریق آتا تھا کہ آپ دو ہی دفعہ تجارت کے لئے گئے اور حضرت خدیجہ اعلیٰ درجہ کی امیر ہو گئیں۔پھر انہوں نے اپنا سارا مال رسول کریم ﷺ کے سپر د کر دیا۔اگر آپ چاہتے تو اس مال کے ذریعہ تجارت کر کے عرب میں سب سے زیادہ مالدار بن جاتے مگر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہر وقت اور ہر گھڑی دین کی اشاعت میں صرف کیا کرتے تھے۔اس سے بظاہر کیا فائدہ تھا جو آپ حاصل کر رہے تھے۔ادھر منافق آپ کو تکالیف پہنچانے میں لگے رہتے ادھر کا فر دکھ دینے میں کمی نہ کرتے تھے۔کوئی ادھر سے حملہ کرتا کوئی ادھر سے۔مگر آپ کا یہ حال تھا کہ مال و دولت کے حاصل ہونے پر بھی آپ خالی ہاتھ گھر چلے جاتے۔حنین میں ہی بعض اعراب نے آپ کے گلے میں پٹکے ڈال کر کہا کہ ہمیں مال دو۔اس پر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ساری الله