سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 153
سيرة النبي ع 153 جلد 2 مکہ والوں کے قافلے گزرتے تھے اور مکہ سے اور نو مسلم بھی آ آ کر اس سے ملتے گئے اور چونکہ ان سے ان کی جنگ تھی اس لئے انہوں نے مکہ والوں کے قافلے لوٹنے شروع کئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ والوں نے خود عرض کیا کہ آپ ان کو بلا لیجئے اور ہم اس شرط سے باز آئے 4۔دوسری شرط یہ تھی کہ جو قوم جس سے ملنا چاہے وہ اس سے مل جائے۔ان کو خیال تھا کہ لوگ آنحضرت ﷺ سے خوف کی وجہ سے ملتے ہیں۔جب ہم نے شرط منوالی تو سب لوگ آپ سے جدا ہو کر ہم سے مل جائیں گے مگر جب یہ شرط ہوئی تو کچھ قبیلے آپ سے مل گئے اور کچھ مکہ والوں سے مل گئے اور یہ بھی شرط تھی کہ ایک دوسرے کے حلیف پر بھی حملہ نہیں کیا جائے گا مگر مکہ والوں نے آنحضرت ﷺ کی ایک حلیف قوم پر شب خون مارا اور ان کے بہت سے آدمیوں کو قتل اور زخمی کیا۔یہ کوئی پوشیدہ رہنے والی بات نہ تھی۔آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے مکہ پر چڑھائی کردی۔وہ جگہ جہاں آپ کو عمرے کے لئے بھی داخل نہیں ہونے دیتے تھے اس میں آپ بحیثیت ایک فاتح کے داخل ہوئے 5۔مکہ والے اس پر اعتراض نہیں کر سکتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے مکہ والوں سے غداری نہیں کی بلکہ مکہ والوں نے معاہدہ شکنی میں غداری سے کام لیا اور وہی صلح جس کو وہ اپنے لئے فتح سمجھتے تھے ان کے لئے وبال ہو گئی۔پس جو خدا کے احکام پر عمل کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی فلاح و بہبود کے خود سامان کر دیتا ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ جو قربانی کرتا ہے اور اپنے حقوق خدا کے لئے چھوڑتا ہے وہ تباہ ہو جائے گا۔جو خدا عفو کی تعلیم دیتا ہے وہ ظالم کے ظلم کے نقصان 66 سے بھی بچا سکتا ہے۔“۔( الفضل 6 جولائی 1922 ء ) 1 تا 4: بخارى كتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد صفحه 450،449 حدیث نمبر 2731، 2732 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 5 : سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 1181 تا 1190 مطبوعہ دمشق 2005 ء