سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 2

سيرة النبي عمال 2 جلد 2 چاہئے۔کیا وہ کیسا ہے اس کے لئے آنحضرت مے کے قبل عرب کی حالت کو دیکھنا بت پرستی عرب وہ لوگ ہیں جن کے مذہب کی کیفیت یہ ہے کہ بت پرستی میں گھرے ہوئے ہیں۔اور خاص کر بت پرستی کا مرکز ہے۔اور وہ لوگ بت پرستی کو معیوب نہیں سمجھتے بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں۔اور شرک وہ نجاست ہے جس کو تمام مذاہب کے لوگ برا خیال کرتے ہیں ان میں خواہ کتنا ہی شرک ہو مگر وہ مشرک کہلانا پسند نہیں کرتے۔میں اس وقت بحث کے لئے نہیں بلکہ تذکرۂ کہتا ہوں کہ عیسائی لوگ باوجود تثليث فی التوحید اور توحید فی التثلیث کے مسئلہ پر عقیدہ رکھنے کے مدعی ہیں کہ موحد وہی ہیں اور باقی تمام لوگ مشرک ہیں۔پس شرک وہ بری چیز ہے جس کو مشرک بھی اپنی طرف منسوب کرنا نہیں چاہتے۔اور مکہ جس جگہ واقع ہے وہ ایک بے آب و گیاہ وادی ہے، وہاں کوئی زراعت نہیں ہوتی ، وہاں باغات نہیں، وہاں کے لوگوں کی روزی ہی بت پرستی اور بت پرستانی پر ہے۔اور پھر وہ اس بت پرستی کو معیوب نہیں خیال کرتے بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم اتنے خداؤں کے بندے ہیں۔ان کی علمیت کی یہ حالت ہے کہ لکھنا پڑھنا معیوب اور ننگ خیال کیا جاتا ہے۔ان کی عادات ایسی بگڑی ہوئی ہیں اور ان کی رسوم اس قسم کی فتیح ہیں کہ کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔مثلاً :۔شراب خوری پر فخر وہ شراب پیتے ہیں۔ایسے آدمی ڈھونڈے بھی نہیں ملیں گے جو شراب پر فخر کریں مگر عرب شراب پینے پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میری معشوقہ ! ان آٹھ وقتوں کے علاوہ جن میں میں شراب پیتا ہوں صبح کو اُس وقت کہ ابھی میرے دوست سوئے ہوئے ہوں تو بیدار ہو کر مجھے شراب پلانا تا کہ میں اپنی شراب نوشی کے باعث ان پر فخر کروں۔آج بھی شراب نوشی ہوتی ہے اور بکثرت ہوتی ہے۔چنانچہ لندن کی شراب نوشی کے متعلق اندازہ کیا گیا ہے کہ