سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 143
سيرة النبي ع 143 جلد 2 ہیں اس کو حکم دیا کہ وہ خود دشمن کے قلعوں پر حملہ کرے اور وہ جس طرف گیا فتح و ظفر نے اس کی رکابوں کو آکر تھام لیا اور دشمن اپنے گھروں میں بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور حضرت مسیح کے کلام کا دوسرا پہلو پورا ہوا کہ وہ جس پر گرا اسے اس نے چکنا چور کر دیا۔یہ فاران سے دس ہزار قد وسیوں سمیت آنے والا، آتشی شریعت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھنے والا جس کے ذریعہ سے نفس کے تمام گند جل جاتے ہیں اور جو کھوٹے دلوں کو صاف کر کے کھرا سونا بنا دیتی ہے جس کی نسبت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ :۔” میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔“ وہ جس کی غلامی پر انبیاء کو بھی فخر ہے وہ ہی بانی اسلام مثیل موسیقی مگر موسیقی سے اپنی تمام شان میں بالا محمد رسول اللہ ﷺہے ہیں جنہیں آج دنیا میں ظالم اور بٹ مار کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خونریزی سے سطح زمین کو رنگ دیا اور ایسا ہونا ضرور تھا کیونکہ تمام انبیاء کے مخالفین کے دل ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کے دونوں پہلوؤں کو برا کہتے ہیں۔وه یوحنا کھاتا پیتا نہیں آیا اور وے کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے۔ابن آدم کھاتا پیتا آیا اور وے کہتے ہیں کہ دیکھو ایک کھاؤ اور شرابی اور محصول لینے والوں اور 66 گنہگاروں کا یار 10۔“ مسیح ناصری بلا تلوار کے آیا اور بلا کسی گناہ کے صلیب پر لٹکایا گیا اور انہوں نے اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور صلیب پر انکار یا اور جنسی سے شور مچایا کہ اے یہودیوں کے بادشاہ ! سلام 11 اور بڑے بڑے عالموں نے ٹھٹے مار مار کر کہا 12۔