سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 144

سيرة النبي علي 144 جلد 2 اس نے اوروں کو بچایا پر آپ کو نہیں بچا سکتا۔اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پر سے اتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے۔اس نے خدا پر بھروسہ رکھا۔اگر وہ اس کو چاہتا ہے تو وہ اب اس کو چھڑاوے۔کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں 13۔66 اور کہا کہ تو جو ہیکل کا ڈھانے والا اور تین دن میں بنانے والا ہے آپ کو بچا۔66 اگر تو خدا کا بیٹا ہے صلیب پر سے اُتر آ14۔“ مگر محمد رسول اللہ اللہ جو خدا تعالیٰ کے جلال و جمال کا کامل مظہر تھا جب اس نے شریر اور سرکش انسان کو اس کے حد سے بڑھ جانے اور اخلاق اور دیانت بلکہ انسانیت کو بکلی ترک کر دینے پر سزا دی تو اس زمانہ کے عالموں نے جو فقیہوں اور فریسیوں کے قائم مقام ہیں مسیح کی مثال کو یاد سے بھلاتے ہوئے اس پر آوازے کسے کہ دیکھو وہ خدا کا نبی کہلاتا ہے اور اس کا مظہر اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے لیکن پھر اس کی تلوار دشمن کے سر پر اٹھتی ہے اور وہ اپنے مخالف کو تہہ تیغ کرتا ہے۔کیا راستبازوں کی یہی علامتیں ہوتی ہیں؟ اور صادق یہی نمونہ دکھایا کرتے ہیں؟ کیوں اس نے عفو سے کام نہ لیا ؟ اور کیوں بخشش کا دامن لوگوں کے سروں پر نہ ڈالا ؟ اور یہ معترض یہ نہیں دیکھتے کہ اس نے قدرت پر عفو کا نمونہ دکھایا اور قابو پا کر چھوڑ دیا اور گلے میں رسی ڈال کر آزاد کر دیا اور حلق پر چھری رکھ کر زندگی بخشی اور اس قدر گنا ہوں کو معاف کیا کہ اگر اس کا عفو ہزار نبی پر بھی تقسیم کیا جائے تو سب اپنے عفو سے زیادہ حصہ پالیں۔ہاں جس طرح خدا تعالیٰ جو رحم کا سرچشمہ اور عفو کا منبع ہے اصلاح کے لئے نہ دکھ دینے کے لئے شریر کو پکڑتا اور سزا دیتا ہے اس نے بھی ایسا ہی کیا تا خدا کا کامل مظہر قرار پائے اور موسی کا مثیل ٹھہرے۔اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو آج یہی معترض جو اس کی دفاعی جنگوں پر حرف گیری کرتے ہیں زور زور سے اپنے گلے پھاڑتے اور آسمان کو سر پر اٹھا لیتے کہ دیکھو وہ موٹی کا مثیل بنتا ہے لیکن