سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 142

سيرة النبي علي 142 جلد 2 ہیں کہ وہ آنے والا ایک نبی ہوگا جو موسٹی کی مانند خدا کے جلال کا ظاہر کرنے والا ہوگا اور شریعت اس کے داہنے ہاتھ میں ہوگی اور وہ مکہ کی پہاڑیوں پر سے جو فاران کہلاتی ہیں دس ہزار قد وسیوں سمیت خدا کے دشمنوں پر حملہ آور ہوگا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ:۔” خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت وو 66 ان کے لئے تھی۔" کلیسیا نہ نبی ہے نہ فاران سے وہ جلوہ گر ہوئی اور نہ دس ہزار قد وسیوں سمیت وہ دنیا میں آئی۔یہ فاران سے جلوہ گر ہونے والا خدا کا مظہر وہی سردار انبیاء، سرور کائنات ، سَيِّدُ وُلدِ آدَم ، کامل و اکمل و مکمل و مکمل ، حامد واحمد ومحمد ومحمود وجود تھا جس کی قوم کو اس کے بنوئم نے خدا کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم قرار دیا اور جسے اس کی قوم کے سرداروں نے ردی کر کے اپنے میں سے نکال پھینکا مگر آخر وہی کونے کا پتھر ہوا۔اور یا تو صرف ایک ہمراہی سمیت اسے مکہ چھوڑ کر وطن سے بے وطن ہونا پڑا تھا یا اسے خدا نے وہ ترقی دی کہ جب اس کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو مٹانے کے لئے اور نیست و نابود کرنے کے لئے اس کی قوم کے لوگ دوسو میل کا فاصلہ طے کر کے ایک زبر دست لشکر کے ساتھ اس پر حملہ آور ہوئے تو جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا اس مظہر شان خدا پر جو گرا وہ پاش پاش ہو گیا۔ایک قلیل اور بے سامان جماعت کے ہاتھوں سے تجربہ کار جرنیلوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست دلوائی اور ذلیل کروایا۔اور پھر جب بار بار کے عفو کے بعد بھی اس کے دشمن باز نہ آئے اور معاہدہ پر معاہدہ کر کے توڑنے لگے تو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کے لئے کہ اس کی فتوحات اسی وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ اپنے گھر کے قریب ہوتا ہے اور اس کے دشمن ایک لمبا سفر کر کے اپنے گھروں سے دور اس سے لڑنے آتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تائید سے