سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 138
سيرة النبي عالم 138 جلد 2 الله رب العالمین کی صفت کے مظہر تھے اور یہی وہ درجہ ہے جس کا پانے والا الْحَمدُ کا مستحق ہوتا ہے اور اسی لئے رسول کریم ﷺ کا نام محمد رکھا گیا کہ سب تعریفیں آپ میں جمع ہوگئیں۔اور یہ ناممکن تھا کہ بغیر محمد نام کے خاتم النبین نبی ہوتا پس آپ کا نام بھی آپ کے خاتم النبین ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“ نیز فرمایا:۔ہستی باری تعالیٰ صفحہ 203 تا 205) ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جب کہ نبی رب العالمین صفت کے مظہر ہوتے ہیں تو بد دعا یا مباہلہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی خود بخود ایسا کبھی نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے ہیں جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ طائف میں گئے اور وہاں کے لوگوں نے آپ کو مارا اور آپ واپس آگئے تو پہاڑ کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اگر حکم ہو تو پہاڑ اکھاڑ کران لوگوں پر گرا دوں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہیں اور آپ نے دعا کی یا اللہ ! اس قوم کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں۔اسی طرح کہا یا اللہ ! ان کو ہلاک نہ کر شاید ان کی اولا د مسلمان ہو جائے 3۔“ ہستی باری تعالیٰ صفحہ 206 207 ) 1 : سیرت ابن ہشام جلد نمبر 1 صفحہ 476 مطبوعہ دمشق 2005ء الطبعة الاولى 2: مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 127 حدیث نمبر 17380 مطبوعہ لاہور 3: مسلم كتاب الجهاد باب مالقى النبي الله صفحه 801،800 حدیث نمبر 4653 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية