سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 134

سيرة النبي الله 134 جلد 2 رسول کریم ہے جسمانی بیماریوں کے عظیم معالج حضرت مصلح موعود ہستی باری تعالی خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1921 ء میں رسول کریم ﷺ کے جسمانی بیماریوں کے عظیم معالج ہونے کے حوالے سے فرماتے ہیں :۔" اب میں اس امر کی مثالوں سے تشریح کرتا ہوں۔مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہیں کہ ان کے علاج معلوم تھے اور بعض کے نہیں۔اور آج سے پہلے بعض بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ لاعلاج ہیں۔حالانکہ لاعلاج کا لفظ ایک بیہودہ لفظ ہے کیونکہ اگر خدا قادر مطلق ہے تو کوئی بیماری لاعلاج کس طرح ہو سکتی ہے ؟ ہاں اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ فلاں بیماری کا علاج ہمیں معلوم نہیں تو اور بات ہے ورنہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج ہی نہیں تو وہ مشرک ہے وہ خدا کو قادر مطلق نہیں مانتا۔آج تک بعض بیماریوں کے متعلق لوگ لکھتے چلے آئے ہیں کہ لاعلاج ہیں، لاعلاج ہیں مگر محمد ہے جنہیں یہ لوگ اُمّی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا لَهُ دَوَاءٌ إِلَّا ال و : : : : کہ کوئی بیماری نہیں جس کا علاج نہ ہو۔یہ آپ نے کیوں کہا؟ اس لئے کہ آپ کو معلوم تھا کہ خدا شافی ہے اس لئے سب بیماریوں کا علاج ہونا چاہئے۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ نے 1300 سال پہلے وہ نکتہ دریافت کر لیا جو یورپ نے آج بھی نہیں کیا۔محمد ہے اس وقت جبکہ طب کا علم نہایت محدود تھا فرماتے ہیں یہ نہ کہنا کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج نہیں یہ بیوقوفی کی بات ہے۔تم دریافت کرنے میں لگے رہو اس کا علاج ضرور نکل آئے گا۔اگر خدا شافی ہے تو اس نے اس مرض کا علاج بھی