سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 132
سيرة النبي الله 132 جلد 2 رسول کریم ﷺ پر خدا تعالیٰ کی تجلی حضرت مصلح موعود اپنے خطاب ہستی باری تعالی فرمودہ 27 دسمبر 1921ء میں رسول کریم ﷺ پر خدا تعالیٰ کی تجلی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت موسی کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک رسول محمد (ع) تیرا مثیل ہو کر مگر تجھ سے بہت اعلیٰ شان میں آئے گا۔اس خبر کو معلوم کر کے حضرت موسی کے دل میں طبعاً یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دیکھوں تو سہی اس پر خدا تعالیٰ کا کس رنگ میں جلوہ ہوگا اور انہوں نے خواہش کی کہ مجھے بھی جلوہ محمدی دکھایا جائے میں بھی تو دیکھوں کہ اُس وقت آپ کس شان سے ظاہر ہوں گے؟ خدا تعالیٰ نے فرمایا تو اس کے جلوہ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی خواہش تو پوری کر دی مگر وہ اسے برداشت نہ کر سکے لیکن رسول کریم علیہ نے اس جلوہ کو برداشت کر لیا کیونکہ آپ کا وہ اصل مقام تھا۔(ہستی باری تعالی صفحہ 166) پھر حضرت مصلح موعود دفرماتے ہیں:۔رؤیت الہی کے حصول کا طریق دیکھو خدا تعالی کے انبیاء کیسے وو لطیف اشارات سے استدلال کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومن کو صبح بھی تجلی ہوگی اور شام کو بھی۔اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ے کا علم کس قدر وسیع تھا اور آپ کی نظر کہاں سے کہاں پہنچتی تھی۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر تم خدا کی رؤیت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو 1۔معلوم ہوتا ہے کہ اس سے رسول کریم ﷺ نے استدلال کیا ہے کہ ان نمازوں کی وجہ