سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 124
سيرة النبي ع 124 جلد 2 پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے۔خدا کی قسم ! ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور اس اعتراض کی بجائے اور بات سوچنے لگے۔کیسی سچی بات تھی جو اس شخص نے پیش کی۔اگر پہلے کبھی رسول کریم ﷺ کی طرف انہوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا۔لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپ کو صادق کہتے رہے تھے تو پھر یکدم جھوٹ کے الزام کو کون سچا مان سکتا تھا۔صلى الله اسی طرح ہر قل نے جب ابوسفیان سے رسول کریم علیہ کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا2 اور کہا کہ آج تک کا لفظ میں نے اس لئے لگایا تا کہ شبہ پڑسکے کہ شاید آئندہ بولے۔الله اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا اور جب وہ جمع ہو گئے تو فرمایا کیا اگر میں تمہیں کہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو مان لو گے ؟ انہوں نے کہا ہاں مان لیں گے 3 حالانکہ مکہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہو سکتی تھی۔پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر ناممکن الوقوع ہو آپ کے منہ سے سن کر ماننے کے لئے تیار ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ کی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یہ ناممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکا دے سکیں۔‘‘ (ہستی باری تعالیٰ صفحہ 50،49) 1 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 347 348 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى 2 بخارى كتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله علا صفحہ 3 حدیث نمبر 7 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 66 صلى الله۔3 بخارى كتاب التفسير تفسير سورة الشعراء باب وانذر عشيرتک الاقربین صفحہ 836 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية