سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 123
سيرة النبي الله 123 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی صلى الله جلسہ سالانہ 1921ء کے موقع پر 27 دسمبر کو ہستی باری تعالیٰ“ کے عنوان سے حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمایا اس میں رسول کریم میہ کی پاک سیرت کے بیان میں فرمایا:۔اسی طرح ہم رسول کریم ﷺ کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپ صادق اور امین تھے اور آپ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپ کی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی۔چنانچہ مکہ میں ایک مجلس ہوئی کہ باہر سے جب لوگ مکہ میں آئیں گے اور محمد (ﷺ) کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے۔سارے مل کر ایک جواب بنا لو تا کہ اختلاف نہ ہو۔آگے ہی ہم بدنام ہو رہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے اس لئے حج پر جولوگ آئیں گے انہیں کہنے کے لئے ایک بات کا فیصلہ کر لو۔اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہہ دینا کہ جھوٹ کی عادت ہے جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے۔یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نضر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہئے۔اگر یہ کہو گے تو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جواباً کہیں گے کہ كَانَ مُحَمَّدٌ فِيكُمُ غُلَامًا حَدَثًا اَرْضَاكُمْ فِيْكُمْ وَ اَصْدَقَكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمَكُمْ أَمَانَةً حَتَّى إِذَا رَأَيْتُمْ فِي صُدْغَيْهِ الشَّيْبَ وَجَانَكُمْ بِمَا جَانَكُمْ بِهِ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ 1 محمد نے تم میں جوانی کی عمر بسر کی ہے اور اُس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک عمل سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آگئے اور وہ تمہارے