سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 125
سيرة النبي الله 125 جلد 2 رسول کریم علیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صفت حفیظ، صفت خالقیت اور صفت شافی کا ظہور لیکچر ہستی باری تعالی فرمودہ 27 دسمبر 1921ء میں حضرت مصلح موعود نے رسول کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صفت حفیظ ، صفت خالقیت اور صفت شافی صلى الله کے ظہور کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔حفیظ کا ظہور چوتھی مثال میں خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کی پیش کرتا صفت ہوں۔تمام نبیوں نے شہادت دی ہے کہ خدا حفیظ ہے۔اب آؤ دیکھیں کہ کیا کوئی حفیظ ہستی ہے جو قانون قدرت کے علاوہ حفاظت کرتی ہے؟ اگر کوئی ایسی ہستی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ موجود ہے۔میں اس صفت کے ثبوت میں رسول کریم ﷺ کے وجود کو پیش کرتا ہوں۔مکہ والوں نے آپ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر اطلاع دی اور فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔آپ وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن بعض مصالح کی وجہ سے راستہ میں ٹھہر نا پڑا۔قریب کے پہاڑ کی ایک غار میں جس کا منہ چند فٹ مربع ہے اور جسے غار ثور کہتے ہیں آپ ٹھہر گئے۔مکہ والے تلاش کرتے کرتے اس جگہ تک جا پہنچے۔عربوں میں کھوج لگانے کا علم بڑا یقینی تھا اور یہ ان کے لئے ضروری تھا کیونکہ وہ جنگی لوگ تھے اگر اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں کا پتہ نہ لگایا کرتے تو تباہ ہو جاتے۔رسول کریم ﷺ کی تلاش میں بھی کھوجی لگائے گئے اور وہی پتہ لگاتے ہوئے اس غار تک مکہ والوں کو