سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 104
سيرة النبي عالم 104 جلد 2 علوس صلى الله سچا سمجھ لیا، نہ کسی قانون کے پیرو تھے۔انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خدا کا رسول کیا ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں۔وہ صرف یہ جانتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے جھوٹ کبھی نہیں بولا۔وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو راستہ میں ہی کسی نے انہیں کہا کہ تمہارا دوست محمد ﷺ) کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔انہوں نے کہا کیا محمد ( ﷺ ) یہ کہتا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے کیونکہ جب اس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہیں بولا تو خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔جب اس نے انسانوں سے کبھی ذرا بد دیانتی نہیں کی تو اب ان سے اتنی بڑی بددیانتی کس طرح کرنے لگا کہ ان کی روحوں کو تباہ کر دے۔صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر نے رسول کریم ﷺ کو مانا اور اسی کو خدا تعالیٰ نے بھی لیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لوگوں کو کہہ دو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ 3 میں ایک عرصہ تم میں رہا اس کو دیکھو۔اس میں میں نے تم سے کبھی غداری نہیں کی پھر اب میں خدا سے کیوں غداری کرنے لگا۔یہی وہ دلیل تھی جو حضرت ابو بکر نے لی اور کہہ دیا کہ اگر وہ کہتا ہے کہ خدا کا رسول ہوں تو سچا ہے اور میں مانتا ہوں۔اس کے بعد نہ کبھی ان کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہوا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش آئی۔ان پر بڑے بڑے ابتلا آئے ، انہیں جائیداد میں اور وطن چھوڑنا اور اپنے عزیزوں کو قتل کرنا پڑا مگر رسول کریم ﷺ کی صداقت میں کبھی شبہ نہ ہوا۔ایک اور صحابی کا ذکر ہے رسول کریم علیہ کا ایک یہودی سے لین دین کا معاملہ تھا اس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا اسے سن کر صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! یہی درست ہے جو آپ فرماتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے کہا یہ معاملہ تو میرے اور اس کے درمیان ہے تم کو کس طرح معلوم ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ درست ہے؟ صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! جب آپ خدا کے متعلق باتیں بتاتے ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ کچی ہیں تو اب جبکہ آپ ایک بندہ کے متعلق فرماتے ہیں تو یہ جھوٹ کس طرح