سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 103

سيرة النبي ع 103 جلد 2 درجہ عظمت اور عرفان میں سب انبیاء سے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے آپ کے شاگردوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دین کی اصلاح کے لئے کھڑے ہوں گے وہ پہلے انبیاء کی امتوں میں سے کھڑے ہونے والوں سے بڑھ کر ہوں گے۔رسول کریم علی نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ خدا ان سے کلام کرتا تھا اس امت میں بھی ایسا ہی ہوگا 1۔اس سے معلوم ہوا کہ پہلے انبیاء کے ذریعے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول کریم علیہ کے کمالات گزشتہ تمام انبیاء کے کمالات سے بڑھ کر ہیں تو اسی وجہ سے ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء کی امتوں میں جو ایسے لوگ پیدا ہوئے جن سے خدا تعالیٰ کلام کرتا تھا وہ محدث تھے مگر رسول کریم ﷺ کی امت میں نبی بھی ہوا جو امتی ہو کر نبی تھا۔وہ نبیوں میں جاکر ان کی صف میں کھڑا ہوگا اور بعض سے اپنی شان میں بڑھ کر بھی ہوگا مگر پھر بھی رسول کریم علی کا امتی ہی ہوگا۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کالج کا ایک لڑکا چھوٹے مدارس کا خواہ ممتحن مقرر ہو جائے لیکن جب کالج میں آئے گا بحیثیت ایک شاگرد کے ہی ہوگا“۔(الفضل 30 مئی 1921ء) پھر آپ اس نو مبائع کو رسول کریم میے کے بلند کردار سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ کے اعلیٰ کردار کا اثر دیکھئے حضرت ابوبکر نے رسول کریم ﷺ کو ایک ہی دلیل سے مانا ہے اور پھر کبھی ان کے دل میں آپ کے متعلق ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ نہیں پیدا ہو۔اور وہ ایک دلیل یہ تھی کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بچپن سے دیکھا صلى الله تھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی شرارت نہیں کی کبھی گندی اور نا پاک بات آپ کے منہ سے نہیں نکلی۔بس یہی وہ جانتے تھے اس سے زیادہ نہ وہ کسی شریعت کے جاننے والے تھے کہ اس کے بتائے ہوئے معیار سے رسول کریم کے کو