سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 102

سيرة النبي الله 102 جلد 2 خاتم الانبیاء ﷺ کی حقیقت علي 2 مئی 1921 ء کو جونا گڑھ ( گجرات کاٹھیا واڑ ) سے ایک صاحب نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی۔اس کو نصائح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔”ہمارا دعوی ہے کہ رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔کیا بلحاظ اس کے کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب (قرآن کریم) کے بعد کوئی کتاب نہیں اور کیا بلحاظ اس کے کہ آپ کی لائی ہوئی شریعت کے بعد کوئی شریعت نہیں۔لیکن اسی سے ہم ایک اور نتیجہ پر پہنچے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جو چیز ہمیشہ رکھنے کے لئے ہوتی ہے اس میں اگر کوئی نقص پیدا ہو جائے تو اس کی فوراً اصلاح کی جاتی ہے۔مثلاً وہ کپڑا جو کئی سال پہنا ہو اس میں اگر سوراخ ہو جائے تو فوراً رفو کرایا جاتا ہے لیکن جو کپڑا اتار کر کسی کو دے دینا ہو اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔پس چونکہ یہ شریعت آخری شریعت ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب اس میں کوئی رخنہ پڑے فوراً خدا تعالیٰ اس کی طرف توجہ کرے کیونکہ اس شریعت نے قیامت تک چلنا ہے۔اگر بدل جانا ہوتا تو پھر ایسی ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ یہ دین، یہ کتاب اور یہ رسول ہمیشہ کے لئے ہے اس لئے اس کے متعلق جو کمزوریاں پیدا ہو جائیں ان کا دور کرنا صلى الله ضروری ہے۔اس کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم ع کے بعد ہمیشہ ایسے وقت کہ جب دین میں فتنہ برپا ہو ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو اس کی اصلاح کریں گے۔رسول کریم ﷺ کے غلام کی شان اس کے ساتھ ہی ہم یہ اعتقاد بھی صلى الله علیہ رکھتے ہیں چونکہ رسول کریم علی