سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 73
سيرة النبي علي 73 جلد 1 ہے کہ حضرت خدیجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور انہیں گل حال سنایا۔انہوں نے سن کر کہا کہ یہ فرشتہ جو آپ پر نازل ہوا ہے یہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی پر نازل فرمایا تھا اور فرمایا کہ يَا لَيْتَنِيْ فِيْهَا جَدَعٌ لَيْتَنِى أَكُوْنُ حَيَّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجيَّ هُمُ 17 یعنی اے کاش کہ میں اُس وقت جوان و توانا ہوں۔اے کاش! کہ میں اُس وقت زندہ ہوں جبکہ تجھے تیری قوم نکال دے گی۔رسول اللہ علیہ نے سن کر فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ اس گفتگو سے اور خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے کہ کیا مجھے میری قوم نکال دے گی؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اندر کیسا صاف تھا۔اور جب آپ نے ورقہ بن نوفل سے یہ بات سنی کہ آپ کو اہل مکہ نکال دیں گے تو آپ کو اس سے سخت حیرت ہوئی کیونکہ آپ اپنے نفس میں جانتے تھے کہ مجھ میں کچھ عیب نہیں۔اور اگر آپ ذرہ بھر بھی اپنی طبیعت میں تیزی پاتے تو اس قدر تعجب کا اظہار نہ فرماتے لیکن ورقہ کی بات سن کر اس پاک فطرت انسان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ہیں ! کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ اسے کیا معلوم تھا کہ بعض خبیث الفطرت ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر نور کی مخالفت کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ تو اس بات پر حیران تھا کہ اس پاک زندگی اور اس دردمند دل کے باوجود میری قوم مجھے کیونکر نکال دے گی۔اخلاق حمیدہ کی تفصیل اخلاق پر ایک مجملاً بحث کرنے کے بعد اب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا تفصیلاً بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں فرداً فرداً آپ کے اخلاق کا بیان کروں ان کی تقسیم کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ اس تقسیم کو مدنظر رکھ کر ناظرین پر یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاوے کہ تمام کے تمام شعبہ ہائے اخلاق میں