سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 72

سيرة النبي علي 72 جلد 1 نے سب واقعہ حضرت خدیجہ کو سنایا اور فرمایا کہ مجھے تو اپنی نسبت کچھ خوف پیدا ہو گیا ہے۔اس بات کو سن کر جو کچھ حضرت خدیجہ نے فرمایا وہ یہ ہے كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ 16 یعنی سنو جی میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں اُن پر عامل ہے۔مہمانوں کی خدمت کرتا ہے اور کچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتا ہے۔اس کلام کے باقی حصوں پر تو اپنے وقت پر لکھوں گا سر دست حضرت خدیجہ کی گواہی کو پیش کرتا ہوں جو آپ نے قسم کھا کر دی ہے یعنی تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ کی گواہی کو کافی تھی لیکن اپنے کلام کو قسم کے ساتھ مؤکد کر کے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام اخلاق حسنہ پائے جاتے ہیں حتی کہ وہ اخلاق بھی جو اُس وقت ملک میں کسی اور آدمی میں نہیں دیکھے جاتے تھے۔یہ گواہی کیسی زبر دست اور کیسی صاف ہے اور پھر بیوی کی گواہی اس معاملہ میں جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نہایت ہی معتبر ہے۔حضرت خدیجہ فرماتی ہیں کہ گل اخلاق حسنہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں آپ میں پائے جاتے تھے۔حضرت خدیجہ کی گواہی پیش کرنے کے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کی گواہی اپنے اخلاق کی نسبت کی گواہی اپنی نیک سیرتی کی نسبت پیش کرتا ہوں۔شاید اس پر بعض لوگ حیران ہوں کہ اپنی نسبت آپ گواہی کے کیا معنی ہوئے۔لیکن یہ گواہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بے تکلفی سے اور بغیر پہلے غور کے دی ہے کہ موافق تو الگ رہے مخالف کو بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔اس حدیث میں جس میں حضرت خدیجہ کی گواہی کا ذکر ہے آگے چل کر لکھا