سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 74
سيرة النبي ع 74 جلد 1 آپ کمال کو پہنچ گئے تھے اور ہر حصہ زندگی میں آپ کے اخلاق اپنا جلوہ دکھا رہے تھے اور کوئی صنف خوبی کی باقی نہ رہی تھی جس میں آپ نے دوسرے تمام انسانوں کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑ دیا۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے انسان کے تعلقات تین طرح کے ہوتے ہیں۔سب سے پہلا تعلق تو اس کا خدا سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا خالق و رازق ہے۔اس کے فضل کے بغیر اس کا ایک دم آرام سے نہیں گزرسکتا بلکہ آرام تو الگ رہا اس کی زندگی ہی محال ہے۔اس کے احسانات کی کوئی حد نہیں ہر ایک لمحہ میں اس کے فضلوں کی بارش ہم پر ہو رہی ہے۔کمزور سے کمزور، ضعیف سے ضعیف حالت سے اس نے ہمیں اس حد کو پہنچایا ہے اور عقل وخرد بخش کرگل مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے۔اس لیے اگر اس کے ساتھ ہمارے تعلقات درست نہ ہوں، اگر ہمارے اخلاق تعلق باللہ میں ادنی ہوں اور اس کے احسانات کو ہم فراموش کر دیں تو ہم سے زیادہ کوئی ذلیل نہیں۔خالق کے بعد ہمارا تعلق مخلوق سے ہے کہ ان میں بھی کوئی ہمارا محسن ہے، کوئی ہمارا معلم ہے، کوئی ہمارا مہربان ہے، کوئی دردخواہ ہے، کوئی ہمارے آرام و آسائش میں کوشاں ہے، کوئی ہماری محبت اور توجہ کا محتاج ہے، کوئی اپنی کمزوریوں اور اپنی گری ہوئی حالت اور اپنے ہم سفروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم سے نصرت و مدد کا متمنی ہے۔غرضیکہ ہزاروں طریق سے ہزاروں آدمی ہم سے متعلق ہیں اور اگر ہمارے معاملات ان سے درست نہ ہوں ، اگر ان سے بدخلقی سے پیش آئیں تب بھی دنیا کا امن و امان جاتا رہتا ہے اور فساد و بغاوت میں ترقی ہوتی ہے۔پس اگر ہمارے اخلاق مخلوق سے درست نہ ہوں تو ہم ایک ڈاکو کی طرح ہیں جو دنیا سے اس کے امن و آرام کا متاع لوٹتا اور غارت کرتا ہے۔تیسرا تعلق ہمارا خود اپنے نفس سے ہے کہ یہ بھی ہماری بہت سی تو جہات کا محتاج ہے اور جس طرح ہمارا خالق سے منہ موڑنا یا مخلوق سے بداخلاقی۔پیش آنا نہایت مضر اور مخرب امن ہے اسی طرح ہمارا اپنے نفس سے بدسلوکی کرنا ނ