سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 63

سيرة النبي علي 63 جلد 1 فرماتے ہیں کہ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاحُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ لِيْ أَنْ أُعْطِيَهُ الأشْيَاحَ قَالَ مَا كُنتُ ِلأُوثِرَ بِفَضْلِى مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُوْلَ اللهِ الا الله فأَعْطَاهُ إِيَّاهُ 8۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں سے آپ نے کچھ حصہ پیا۔اُس وقت آپ کے دائیں جانب ایک نو جوان بیٹھا تھا جو سب حاضرین مجلس میں سے صغير السن تھا اور آپ کے بائیں طرف بوڑھے سردار بیٹھے تھے۔پس آپ نے اُس نوجوان سے پوچھا کہ اے نوجوان ! کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں یہ پیالہ بوڑھوں کو دوں ؟ اس نوجوان نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے تبرک کے معاملہ میں کسی اور کے لیے اپنا حق نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر آپ نے وہ پیالہ اُسی کو دے دیا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دائیں طرف کا ایسا لحاظ رکھتے کہ بائیں طرف کے بوڑھوں کو پیالہ دینے کے لیے آپ نے اول اُس نوجوان سے اجازت طلب فرمائی اور اس کے انکار پر اس کے حق کو تسلیم کیا۔ہر معاملہ میں خدا کا ذکر لاتے آپ کو خدا تعالیٰ سے کچھ ایسی محبت اور پیار تھا کہ کوئی معاملہ ہو اس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ضرور کرتے۔اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ، غرض کہ ہر موقع پر خدا کا نام ضرور لیتے جس کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے چل کر کیا جائے گا۔یہاں صرف اس قدر لکھنا ہے کہ یہ بات بھی آپ کی عادات میں داخل تھی کہ سونے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو ملا کر دعا فرماتے۔پھر سب بدن پر ہاتھ پھیر لیتے۔چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ كَانَ إِذَا أوى إلى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَتْ فِيْهِمَا فَقَرَأَ فِيْهِمَا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ