سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 62
سيرة النبي عل 62 جلد 1 ایک آدمی کو کفایت کرتی تو اُسے دیتے جو دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔اور اس بات کا اتنا لحاظ تھا کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حَلَبْتُ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةَ دَاجِنٍ فِي دَارِي وَشِيْبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِى فَأَعْطِيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيْهِ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِيْنِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِى أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُوْلَ اللهِ عِندَكَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيُّ الَّذِي عَلى يَمِيْنِهِ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ 7 یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری کا جو گھر میں رہتی تھی دودھ دو ہا اور اس کے بعد دودھ میں اس کنویں سے پانی ملا یا گیا جو میرے گھر میں تھا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پیالہ دیا گیا اُس وقت آپ کے بائیں جانب حضرت ابوبکر اور دائیں جانب ایک اعرابی تھا۔آپ نے اس میں سے کچھ پیا پھر جب پیالہ منہ سے ہٹایا تو حضرت عمرؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھا نہ دے دیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابو بکر آپ کے پاس بیٹھے ہیں انہیں دے دیجیے گا۔لیکن آپ نے اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھا وہ پیالہ دیا اور فرمایا کہ دایاں دایاں ہی ہے۔۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دائیں جانب کا کتنا لحاظ رکھتے تھے جو آپ کی پاک فطرت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرتِ انسانی میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دینا رکھا ہے اور اکثر ممالک کے باشندے باوجود آپس میں کوئی تعلق نہ رکھنے کے اس معاملہ میں متحد ہیں اور دائیں کو بائیں پر ترجیح دیتے ہیں۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت نہایت پاک تھی اس لیے آپ نے اس بات کی بہت احتیاط رکھی۔ایک اور حدیث بھی آپ کی اس عادت پر روشنی ڈالتی ہے۔سہل ابن سعد