سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 61
سيرة النبي علي 61 جلد 1 نے انسانوں کا رہنما بنایا تھا وہ ایسا کامل تھا کہ کسی پاک جذ بہ کو ضائع ہونے نہ دیتا۔ہنسی کے موقع پر ہنستا ، رونے کے موقع پر روتا ، خاموشی کے موقع پر خاموش رہتا اور بولنے کے موقع پر بولتا۔غرض کوئی صفت اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی کہ جسے اس نے ضائع ہونے دیا ہو اور اپنے عمل سے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی خدائی کو مٹانے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہے اور یہی اس کی ادا ہے جو ہر طبیعت اور مذاق کے آدمی کو موہ لیتی ہے اور کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ بے اختیار دل اس پر قربان ہوتا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ہنستے بھی تھے لیکن اعتدال سے اور ہنسی کے وقت آپ کی طبیعت پر سے قابو نہ اٹھتا بلکہ جنسی طبعی حالت پر رہتی۔چنانچہ فرماتی ہیں کہ ما رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجُمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح گلا پھاڑ کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگ جائے بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے یعنی آپ کی ہنسی ہمیشہ ایسی ہوتی تھی کہ منہ نہ کھلتا تھا اور آپ افراط و تفریط دونوں سے محفوظ تھے۔نہ تو ہنسی سے بکلی اجتناب تھا اور نہ قہقہہ مار کر ہنتے کہ جس میں کئی قسم کے نقص ہیں۔آجکل تو میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان امراء میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ وہ اس زور سے قہقہہ مارتے ہیں کہ دوسرا سمجھے کہ شاید چھت اڑ جائے گی اور اس طرح وہ آجکل کے پیرزادوں کی ضد ہیں۔دائیں جانب کا لحاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فِدَا هُ نَفْسِی کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ ہمیشہ دائیں طرف کا لحاظ رکھتے۔کھانا کھاتے تو دائیں ہاتھ سے۔لباس پہنتے تو پہلے دایاں ہاتھ یا دایاں پاؤں ڈالتے۔جوتی پہنتے تو پہلے دایاں پاؤں پہنتے۔غسل میں پانی ڈالتے تو پہلے دائیں جانب۔غرض کہ ہر ایک کام میں دائیں جانب کو پسند فرماتے حتی کہ جب آپ کوئی چیز مجلس میں بانٹنی چاہتے تو پہلے دائیں جانب سے شروع فرماتے اور اگر اس قدر ہوتی کہ صرف