سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 60

سيرة النبي علي 60 60 عادات باب دوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ، لباس اور کھانے پینے کا طریق لکھنے کے بعد مناسب سمجھتا ہوں کہ اب کچھ آپ کی بعض عادات پر بھی لکھا جاوے۔ہر انسان کچھ نہ کچھ عادات کے ماتحت کام کرتا ہے۔ہاں بعض تو نیک عادات کے عادی ہوتے ہیں اور بعض بد کے۔شریر اپنی شرارت کی عادتوں میں مبتلا ہوتا ہے تو شریف نیک عادات کا عادی۔ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دو عادات جو میں اس جگہ بیان کرتا ہوں ان سے معلوم ہوگا کہ آپ کس قدر یمن و نیکی کی طرف متوجہ تھے اور کس طرح ہر معاملہ میں میانہ روی کو اختیار فرماتے تھے۔ہنسی کا طریق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے انسان کامل بنایا تھا۔تمام نیک جذبات آپ میں پائے جاتے تھے اور ہر خوبی کو اپنے موقع اور محل پر استعمال فرماتے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی خلق ضائع نہ ہو جائے۔بعض بناوٹی صوفیاء کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسے تکلفات اور مشقتوں میں اپنے آپ کو ڈال لیتے ہیں کہ جس کی وجہ سے انہیں کئی پاک جذبات اور کئی طیبات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔بعض کھانے میں خاک ملا لیتے ہیں۔بعض گندی ہو جانے اور سڑ جانے کے بعد غذا استعمال کرتے ہیں۔بعض سا را دن سر ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور ایسی شکل بناتے ہیں کہ گویا کسی ماتم کی خبر سن کر بیٹھے ہیں اور ہنسنا تو در کنار بشاشت کا اظہار بھی حرام سمجھتے ہیں۔لیکن ہمارا سردار صلی اللہ علیہ وسلم جسے خدا جلد 1