سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 51

سيرة النبي علي 51 جلد 1 وہ ان کو اس شرط پر ماننے کے لئے تیار ہیں کہ آپ اپنے بعد اسے خلیفہ بنائیں تو ہوسکتا تھا کہ آپ اس کی بات کو قبول کر لیتے اور بعد میں جب دخل جم جاتا تو جو چاہتے کرتے لیکن یہ شرارت آمیز خیالات آپ کے دل میں پیدا تک نہیں ہوئے۔ناجائز وسائل سے کام لینے والے آدمی ضرور پُر اسرار ہوتے ہیں لیکن آپ کوئی راز نہ رکھ سکتے تھے سب کارروائی کھلے بندوں ہوتی تھی۔آپ کا سخت مخالف ابوسفیان خود ایک مسیحی بادشاہ کے سامنے کہتا ہے کہ آپ پر سوائے اس دعوی کے کبھی جھوٹ کی تہمت نہیں لگی اور نہ آپ نے کبھی عہد کے خلاف کیا۔۔اور حکومتوں میں سب سے زیادہ ناجائز وسائل جن سے وہ کام لیتی ہیں یہی ہوتے ہیں کہ جھوٹ بولا جائے اور عہدوں کی پابندی نہ کی جائے جس کا یورپ اس وقت کامل نمونہ ہے۔پھر آپ نے بڑے زور کے ساتھ عربوں میں دعویٰ کیا کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا میں تم میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں میرے چال چلن پر کچھ اعتراض تو کرو۔مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اعتراض کر سکے۔ہاں اگر آپ یہ بات یسوع کی بابت کہتے تو ہم کسی قدر ماننے کے لئے تیار بھی ہو جاتے کیونکہ یسوع نے اپنے دعاوی کے منوانے کے لئے عجیب عجیب طریقے اختیار کئے۔جن میں سے مُردوں کا زندہ کرنا، پانی کا شراب بنا دینا 9 بھوتوں کا نکالنا 10 اور اسی طرح بھوتوں کا سؤروں کے گلہ پر چھوڑ دینا 11 ایسی باتیں نہیں کہ جن سے یسوعی ناواقف ہوں اور جو ایک شعبدہ باز کے شعبدہ سے زیادہ نہیں معلوم ہوتیں اور صرف اپنی تعلیم کے پھیلانے کے لئے جہان کو دکھائی گئیں۔ہمارے آنحضرت ﷺ نے تو اپنے مقصد یعنی اشاعت توحید کے حصول کیلئے جو طریق فیصلہ پیش کیا یعنی قرآن شریف وہ اب بھی موجود ہے اور اگر مسٹر شیڈ یا کسی اور پادری کو اس دعوی کے پر کھنے کا خیال ہو تو ہم بڑی خوشی سے صرف قرآن شریف سے ہی دلائل دے کر اسلام کے دعاوی کو ثابت کر سکتے ہیں وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ۔تیسری بات مسٹر شیڈ نے یہ لکھی ہے کہ آپ بدیوں سے متنفر بھی تھے لیکن پھر