سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 50

سيرة النبي علي 50 جلد 1 سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ تو سچ کہتا ہے ؟ پھر یہی نہیں بلکہ یوحنا باب 22 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بادشاہت کے خلیفہ بھی مقرر کر چکا تھا اور بنی اسرائیل کی بارہ قوموں پر حکومت کرنے کے لئے اس نے بارہ حواریوں کو بادشاہ مقرر کیا تھا۔یسوع کا ایک طرف تو دنیا سے اس قدر اظہار نفرت ، دوسری طرف تلواروں کے خریدنے کا حکم دینا، آسمانی بادشاہت کی تلقین ، بنی اسرائیل کی بادشاہت کا دعوی ، داؤد کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا۔کیا یہ باتیں ثابت نہیں کرتیں کہ وہ مسٹرشیڈ ہی کی دلیل کے رو سے متضاد قوی کا جامع تھا ؟ اور گو ایک طرف مذہبی تلقین میں مشغول تھا لیکن دوسری طرف یہودیوں کو حکومت کا جوا اتار کر پھینک دینے کی تعلیم دیتا تھا۔یسوع نے گو بعد گرفتاری کہا ہے کہ اگر میری مراد بادشاہت سے دنیاوی بادشاہت ہوتی تو میرے نوکر میرے گرفتار کرنے والوں کا مقابلہ کیوں نہ کرتے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اول تو بارہ آدمی ایک جم غفیر کا مقابلہ ہی کیا کر سکتے تھے اور پھر یہ دعوئی ہی غلط ہے پطرس نے ایک آدمی کے کان پر تلوار مار کر اس کا کان کاٹ دیا۔دوسری بات جو رسول کریم ﷺ کے چال چلن میں نامہ نگار مسلم ورلڈ کو عجیب نظر آئی ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو آپ میں تقویٰ کا خیال تھا لیکن ساتھ ہی اپنے مطالب کے حصول میں ناجائز وسائل کی پرواہ نہ کرتے تھے لیکن آج تک کوئی تاریخ ایسی نہیں صلى الله ہے کہ جو رسول کریم ﷺ پر اس قسم کا الزام ثابت کر سکے۔پہلے دو حوالے ہی جو میں دے آیا ہوں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ آپ ناجائز وسائل سے کیسے محترز تھے۔جس وقت عربوں نے آپ سے شرک کی مخالفت ترک کرنے کی درخواست کی تھی اور آپ کو اپنا بادشاہ بنالینے کی لالچ دی تھی کیا اُس وقت ممکن نہ تھا کہ آپ عارضی طور سے ان کی بات مان لیتے اور رفتہ رفتہ ان پر اپنا رعب بٹھا کر جو چاہتے منوا لیتے۔یا جب سردار قبیلہ بنی عامر بن صعصہ نے آپ سے درخواست کی کہ