سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 52

سيرة النبي علي 52 جلد 1 نعوذ باللہ ذاتی تعیش میں مبتلا تھے۔جس شخص نے چھپیں سال تک شادی نہ کی ہو اور با وجود جوان و طاقتور ہونے کے اس پر اس کے سخت سے سخت مخالف کوئی الزام نہ لگا سکے ہوں۔جس نے شادی کرنے پر ایک اپنی عمر سے بڑی بیوہ سے نکاح کیا ہو۔لاکھوں روپیہ جس کے ہاتھ میں سے گزرا ہو لیکن اس نے باوجود حق کے اس روپے کے استعمال سے قطعی پر ہیز کیا ہو۔ایک عظیم الشان سلطنت کا مالک ہوتے ہوئے اس کے گھر میں ایک ملازم تک نہ ہو، اس کی بیویاں خود ہی گھر کا کام کرتی ہوں اور وہ بھی اس میں ہاتھ بٹاتا ہو، جو کی روکھی روٹی اور صرف سکھائے ہوئے گوشت پر گزارہ کرتا ہو، جس کے گھر میں کبھی تین دن متواتر آگ نہ جلی ہو، دنیا کے بادشاہ اس سے ڈرتے ہوں اور قوموں کا وہ فاتح ہولیکن بجائے مخملی فرشوں ، نرم بستروں اور ایرانی قالینوں کے ننگے بورے پر سوتا ہو، دن کو لوگوں کی خدمت اور رات کو کھڑے کھڑے خدا کی عبادت میں گزارتا ہو، کیا اس کی نسبت ذاتی تعیش کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔اگر مسٹر شیڈ میں ذرا بھی قوتِ انصاف ہوتی تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔پھر جب خواہش تعیش یا آرام طلبی آپ میں تھی ہی نہیں تو اضداد کیونکر جمع ہوئے۔رسول کریم ﷺ کے خلاف یسوع کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو اس میں سے اضداد بے شک مجتمع نظر آتے ہیں کیونکہ ایک طرف تو وہ قرار دیتا ہے کہ گناہ سے بچنے میں ہی نجات ہے اور بدیوں سے بچنے کی لوگوں کو ترغیب دیتا ہے اور دنیا سے بے تو جہی ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف ہم اسے دیکھتے ہیں کہ خوب شرا ہیں اڑاتا ہے، اکثر عورتوں کی صحبت میں رہتا ہے اور بازاری عورتوں کے ہاتھوں عطر اور تیل لگواتا ہے۔حالانکہ خود انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ئے پینی نیکوں کا کام نہیں کیونکہ لکھا ہے وہ ( یوحنا ) خدا کے حضور بزرگ ہوگا اور نہ ئے اور نہ کوئی نشہ پیئے گا 12۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ئے سے بچنا پر ہیز گاری میں داخل ہے اور یسوع نے تو نہ صرف