سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 49
سيرة النبي علي 49 جلد 1 کے سامنے یہ بات پیش کی تھی کہ ہم آپ کی ہر خواہش کو منظور کرنے کے لئے تیار ہیں یہاں تک کہ اپنا سردار اور بادشاہ بنانے سے بھی انکار نہیں 1 تو آپ فوراً ان کی درخواست منظور کر لیتے لیکن شاید مسٹر شیڈ کو معلوم نہیں کہ اُس وقت آپ نے کیا جواب دیا۔آپ نے یہی جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں لاکھڑا کرو تو بھی میں شرک کی مخالفت سے باز نہیں آسکتا۔میں تمہارے ان لالچوں کی کیا پرواہ کرتا ہوں 2۔پھر جب قبیلہ بنی عامر بن صعصہ کے ایک سردار (اس کا نام بحیرہ ابن فراس تھا) نے آپ سے عرض کی کہ ہماری سب قوم آپ کے ساتھ ہونے کو تیار ہے صرف آپ اتنا وعدہ کریں کہ اپنے بعد مجھے خلیفہ بنادیں تو آپ نے کیا جواب دیا۔اس کی درخواست کو قطعاً نا منظور کر دیا اور قطعاً ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی طرف توجہ نہ کی 3 اگر سیاسی امنگیں آپ کے اندر کام کر رہی ہوتیں تو اس سے بہتر اور کیا موقع ہوسکتا تھا۔اس تجویز میں تو اپنے مذہب کے خلاف بھی کوئی بات نہیں ماننی پڑتی تھی بلکہ نہایت آسانی سے عرب پر حکومت کا ایک راہ نکل آتا تھا۔لیکن کیا آپ نے اس لئے انکار کر دیا کہ آپ اپنی اولاد کے لئے حکومت کو رکھنا چاہتے تھے؟ آپ کے عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ باعث نہیں تھا کیونکہ آپ نے اپنا خلیفہ بنو ہاشم میں سے نہیں مقر ر کیا۔مگر میں مسیح کو دیکھتا ہوں تو اس میں یہ دونوں باتیں جمع ہیں۔وہ کہتا ہے کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں سے گزر جانا اس سے آسان ہے کہ کوئی دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو 4۔لیکن اس بات کا اقرار کرتے ہوئے کہ دولت انسان کے دین کے لئے مضر ہے اور اس سے وہ خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا پھر وہ کہتا ہے اب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہیں اپنے کپڑے بیچ کے تلوار خریدے 5 اور ایک دوسری جگہ لکھا ہے کہ ” پلاطس نے اس