سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 48

سيرة النبي علي 48 جلد 1 خدائے تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اور دشمنوں کو شکست ہوئی اور انہوں نے یکے بعد دیگرے اپنے علاقے آپ کے ہاتھ میں چھوڑنے شروع کئے تو کیا آپ ان مفتوحہ علاقوں کو بھی کفار مکہ کے سپرد کر دیتے یا یہودیوں کے یا قیصر و کسری کے حوالہ کر دیتے ؟ ایسے انسان کی نسبت جس نے سالہا سال تک مظالم اعداء برداشت کئے ہوں اور اُف نہ کی ہو اور آخر تنگ آکر خود حفاظتی کے لئے تلوار اٹھائی ہو یہ کہنا کہ اس کا دل سیاسی امنگوں سے پُر تھا اور یہ اُس کے مذہبی جوش کے منافی تھا کیسے ظلم کی بات ہے۔آپ کا تلوار اٹھانا سیاسی امنگوں کی خاطر نہ تھا اگر آپ نے سیاسی امنگوں کی خاطر یہ سب کا رروائیاں کی تھیں اور نعوذ باللہ آپ کا دل حصولِ جاہ وجلال کا خواہشمند تھا تو کس لئے ؟ ان ترقیوں اور فتوحات سے اپنے لئے کیا لیا؟ کیا کوئی جابرانہ حکومت قائم کی یا شہنشاہی کا لقب قبول کیا ؟ اپنے لئے دولت و مال جمع کر لیا یا آرام و آسائش کی زندگی کے سامان جمع کئے؟ اپنے رہنے کے لئے عظیم الشان محل تیار کئے؟ اپنے رشتہ داروں کے لئے لاکھوں روپیہ کی جائیدادیں وقف کر دیں؟ یا اپنے خاندان میں حکومت قائم کی؟ آخر کونسا فائدہ تھا جو آپ نے ان فتوحات یا ترقیات سے اٹھایا ؟ سوائے اس کے کہ دشمن کے ظلم سے تنگ آکر تلوار اٹھائی اور جب اسے مغلوب کر لیا تو ہر قسم کی مراعات و رحم سے اس کے ساتھ سلوک کیا اور باوجو دان ترقیوں اور جاہ وجلال کے اپنا یہ حال تھا کہ بے بستر کے زمین پر لیٹتے تھے اور بعض دفعہ گھر میں کھانے کو روٹی تک نہ ہوتی تھی۔اور بعض دفعہ صرف جو کی روٹی پر کفایت کرتے تھے۔گھر کے کام خود کر لیا کرتے تھے اور کچھ عار نہ تھا۔نہ کوئی باڈی گارڈ تھا اور نہ نوکروچا کر، نہ چوکی نہ پہرہ۔اگر سیاسی امنگیں آپ کے دل میں ہوتیں تو جس وقت اہل مکہ نے مل کر آپ