سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 40

سيرة النبي علي 40 جلد 1 بہت پیارا تھا عیسی بھی۔مگر ان پیاروں میں سے کسی کو وہ کلام نہ دیا بلکہ اپنے سب سے پیارے نبی عربی ﷺ کو دیا۔انسان کی فطرت میں بھی یہ امر ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ ، عمدہ سے عمدہ چیز اپنے پیارے بچے کے لئے رکھتا ہے۔پس خدا نے بھی اپنا لا ثانی کلام اپنے اسی بندے کو دینا تھا جو سب پیاروں سے زیادہ پیارا تھا نہ کہ کسی گندوں سے بھرے ہوئے انسان کو۔جیسا کہ نَعُوذُ باللہ مخالفین کا آنحضرت عے کے بارے میں گمان ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ قرآن مجید کا کوئی رکوع بلکہ کوئی آیت عظمت و جبروتِ انہی کے ذکر سے خالی نہیں۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کس قدر تعلق و اخلاص اللہ تعالیٰ سے تھا۔پھر مختلف حالات و اوقات کے متعلق جو احکام ہیں ان پرغور کریں تو بھی آپ ﷺ کی پاک و مطہر زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔جب ہم کھانا کھانے بیٹھتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے دیکھو کیا کرنے لگے ہو پہلے بسم اللہ کہہ لو۔جب کھانا کھا چکتے ہیں تو حکم ہوتا ہے الْحَمْدُ لِلہ کہ لو ورنہ ناشکری ہوگی۔اس ذات کا شکر ضروری ہے جس نے رزق بخشا، صحت بخشی، معدہ دیا، دانت دیئے۔اسی طرح جب ہم کوئی کام شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ خیر خواہ ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ تمہارا علم ناقص ہے 2 تمہاری قوت میں کمزوری ہے پس اس پاک و قدوس، قادر و مقتدر سے مدد مانگ کر شروع کرو، استخارہ کرلو۔نکاح کے لئے يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ 3 سنا کر خدا کا ڈر یاد دلا دیا۔اسی طرح جب ہم صبح کے وقت نیند سے اٹھتے ہیں تو ہم کو حکم ہوتا ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خدا کی تسبیح وتحمید و تقدیس کرلو۔پھر جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو یادِ خدا کا حکم ہوتا ہے تا کہ تمہاری روحانیت کا آفتاب اسی طرح زائل نہ ہو جائے۔پھر عصر کے وقت جب آفتاب کی حدت بہت کچھ کم ہو جاتی ہے تو پھر خدا کے حضور گڑ گڑانے کا حکم دیا۔پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو اس وقت بھی دعا کا حکم ہے کہ الہی ! جس طرح یہ جسمانی سورج ڈوب گیا ہے روحانی سورج نہ ڈوب جائے اور ہم انوار خداوندی سے محروم نہ رہ جائیں۔پھر جب بالکل اندھیرا پڑ جاتا ہے تو پھر