سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 41

سيرة النبي علي 41 جلد 1 اس نُورُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ 4 کے حضور کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے ایسا نہ ہو کہ ہم طرح طرح کی ظلمات میں رہ کر تباہ ہو جائیں۔یہ تعلیم ، یہ پاک تعلیم کیا کسی گندے انسان کے دل سے نکل سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ اسی شخص کے پاک قلب سے نکل سکتی ہے جس کی زندگی نہایت مطہر اور سارے جہان کے لئے نمونہ ہو۔یا درکھو جو شخص دنیا کو جس قدر دین کی طرف متوجہ کرتا ہے یقیناً وہ اسی قدر خدا کا والہ وشیدا ہے۔پس یہ تعلیم کہ اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے ہر وقت خدا کو یاد رکھو اس اخلاص ، اس محبت ، اس عشق ، اس پیار ، اس شیفتگی کا پتہ دیتی ہے جو نبی کریم ﷺ کو خدا سے تھی۔پھر اسی تعلیم کا اثر دیکھ کر مسلمانوں کے بچے ، بوڑھے، جوان ، عورتیں سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔کوئی بچہ گرتا ہے تو فوراً منہ سے حَسْبُكَ اللهُ، جب کوئی خوشی ہوتی ہے تو زبانیں پکار اٹھتی ہیں اَلْحَمْدُ لِلہ۔آخر یہ بات کس نے ان کے دل میں ڈالی ؟ رسول کریم ﷺ نے۔انسان اپنے پیارے کا نام کسی نہ کسی بہانے سے الله ضر ورسننا چاہتا ہے۔پس نبی کریم ﷺ کا پیارا تو خدا تھا۔آپ نے ہر حرکت وسکون ، ہر قول وفعل سے پہلے پیارے کا نام بتا دیا۔سب سے نازک خطر ناک موقع تو انسان کے لئے وہ ہوتا ہے جب شہوت کا بھوت اس کے سر پر سوار ہو۔جس وقت انسان سب کچھ بھول کر صرف اسی خیال میں محو ہو جاتا ہے۔اور جب وہ دنیا اور دنیا کے پیاروں سے الگ ہو کر ایک پیارے میں منہمک رہ جاتا ہے تو ایسے جوش کے وقت بھی نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہوتا ہے کہ اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْنَاةِ پڑھ لیا کرو۔غرض کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، تاریخی شہادت کی حاجت صلى الله نہیں۔صرف قرآن مجید ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہر قول و فعل خدا کے لئے تھا اور آپ ﷺ کی زندگی پاک و مطہر تھی۔قرآن مجید سے پہلے اَعُوذُ پڑھنے کی تعلیم میں حکمت لوگ مذاہب بناتے ہیں