سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 39
سيرة النبي علي 39 جلد 1 ہیں اور بعض بے باک شریر آپ کو بدیوں میں ملوث بتا کر اس سورج کو چھپانا چاہتے ہیں جس سے تمام جہان روشن ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہی فقرہ آپ کے چال چلن کی بریت کے لئے کافی ہے کیونکہ انسان جس قسم کا ہو اسی قسم کی باتیں کیا کرتا ہے۔اس کے متعلق مجھے ایک قصہ یاد آیا ہے۔رابعہ بصری ایک مشہور بزرگ عورت گزری ہیں۔ان کے سامنے چند آدمیوں نے مسجد میں دنیا کی مذمت کی اور اس قدر مذمت کی کہ عصر کا وقت آ گیا۔عصر کے بعد پھر اس طائفہ نے دنیا کی مذمت شروع کر دی۔آپ نے غضب ناک ہو کر کہا کہ یقیناً تم دنیا کے طالب ہواسی لئے دنیا کا ذکر کرتے ہو کیونکہ انسان کو جو چیز پسند ہو اسی کا ذکر کرتا ہے۔بعض اوقات محبوب کے شکوہ میں وہی مزہ آتا ہے جو اس کی تعریف میں آیا کرتا ہے۔غرض انسان کو جس سے محبت ہو اسی کا اکثر ذکر کرتا ہے۔یہی اصل ہاتھ میں لے کر رسول کریم ﷺ کی زندگی پاک ثابت کرنے کو میرے لئے قرآن مجید کافی ہے۔كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یوں تو عیسائیوں نے آپ کے خلاف کتابیں لکھی ہیں اور مسلمانوں نے مجاہد النبی میں جو کچھ لکھا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے لیکن ایک معترض کہے گا کہ یہ دونوں نا قابلِ اعتبار ہیں۔ایک مسلمان نے خوش اعتقادی سے کہنا ہی ہوا کہ آپ کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف لگی رہتی تھی اور ایک عیسائی کا مذہبی فرض ہے کہ اس کے خلاف کہے۔پس تاریخ معیار نہیں۔ہاں قرآن شریف ضرور قابل اعتماد ہے جو تبدیل نہیں ہوا۔عیسائیوں اور صلى الله یہودیوں کے خیال میں نبی کریم ﷺ کا اپنا بنایا ہوا ہواور مسلمانوں کے نزدیک خدا کا کلام۔دونوں صورتوں میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پاک اور مطہر ثابت ہوتی کیونکہ ان پاک خیالات کا منبع وہی قلب ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔اگر کوئی قلب اس قسم کے پاک و جامع کلام کا اہل ہوتا تو آدم سے لے کر آپ کے زمانہ تک کسی اور نبی پر یہ القاء ہوتا۔ابراہیم بھی خدا کو بہت پیارا تھا ،موسی“ بھی صلى ہے۔