سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 479

سيرة النبي علي 479 جلد 1 مرزا جی جتنا مارنا ہے مار لو۔اس پر مجھے رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔یہ بچپن کا واقعہ ہے۔پس جب نرمی اختیار کرنے پر ایک بچہ کے دل میں بھی ایسی حالت پیدا ہو جاتی ہے تو سمجھدار انسان کے دل میں کیوں نہ ہوگی۔اس میں شک نہیں کہ وہ لوگ جو دنی الطبع ہوتے ہیں وہ نرمی سے نرم نہیں ہوتے لیکن اکثر لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق ایک اور روایت ہے۔حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی اور رسول کریم ﷺ کی سالی کہتی ہیں کہ میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی۔میں نے رسول کریم ﷺ کو کہلا بھیجا یا رسول اللہ! میری ماں آئی ہے اور مشرکہ ہے اور اسلام سے سخت متنفر ہے۔کیا میں اس سے نیک سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں ضرور کروح تو دنیاوی معاملات میں مذہب نیک اور اچھا سلوک کرنے کی ممانعت نہیں کرتا بلکہ حکم دیتا ہے۔دنیاوی تعلقات چونکہ انسانیت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اس لئے انسان بننے کے لئے ان کا امتیاز کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر کوئی پہلے انسان بنے گا تو پھر مسلمان یا ہندو یا عیسائی یا سکھ بن سکے گا۔ور نہ جو انسان ہی نہیں یعنی انسانیت کے صفات اس میں نہیں پائے جاتے اس کا کیا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان یا ہندو یا عیسائی یا سکھ کہے۔یہ تو اچھے سلوک کے متعلق ہوا۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپس کے معاملات اور لین دین میں دیانتداری سے کام لیا جائے۔کئی لوگ ہوتے ہیں جو بے وقوفی اور نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مذاہب کے لوگوں کا مال یا کوئی اور چیز دھوکا اور فریب سے لے لینا جائز ہے۔چنانچہ کئی لوگ مجھ سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا گورنمنٹ کی چیزوں سے کچھ رکھ لینا بھی ناجائز ہے اور یہ بھی خیانت میں داخل ہے؟ اسی طرح ہندوؤں، مسلمانوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کو دھوکا فریب دے کر خود فائدہ اٹھا لینا جائز سمجھتے ہیں جو کہ سخت بد دیانتی ہے اور جب تک یہ دور نہ ہو اُس وقت تک آپس میں