سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 480

سيرة النبي علي 480 جلد 1 ہرگز حقیقی اتحاد و اتفاق نہیں پیدا ہو سکتا کیونکہ جب ایک شخص دیکھے گا کہ فلاں مذہب کے آدمی نے میرے ساتھ چند پیسوں کے لئے بددیانتی کی ہے تو پھر اپنے ملک کی باگ اس کے ہاتھ میں دینے کے لئے کس طرح تیار ہو سکے گا۔پس پہلے اپنے گھر میں اطمینان ہونا چاہئے کہ جن کے ساتھ تعلقات ہیں وہ خیانت نہیں کرتے اور پھر بڑے بڑے امور میں ایک دوسرے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔اب اپنے گھر کی تو یہ حالت ہے که معمولی معمولی باتوں کے متعلق ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کیا جاتا اور گورنمنٹ کے ساتھ جو تعلقات ہیں ان کا یہ حال ہے کہ اگر مسلمانوں کو گورنمنٹ عہدے دیتی ہے تو ہندو اس کے خلاف شور مچا دیتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ ایک دوسرے پر اعتبار اور اعتماد نہیں ہے۔سٹیجوں پر کھڑے ہو کر لیکچروں میں کہ دینا آسان اور بہت آسان ہے کہ آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہنا چاہئے لیکن صرف زبانی کہہ دینے سے نہ کبھی پہلے اتفاق ہوا ہے نہ اب ہو سکتا ہے۔اتفاق و اتحاد کا وعظ کرنے والوں کو اپنے عمل اور اپنے خیالات کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا ہیں اور روز مرہ واقعات سے دریافت کرنا چاہئے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ان واقعات کو جو آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں جاننے والا کس طرح آنکھیں بند کر کے کہہ سکتا ہے کہ اس طرح ہند و مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد پیدا ہو گیا ہے یا ہو سکے گا۔قرآن کریم میں اس بات سے بڑے زور کے ساتھ روکا گیا ہے کہ ایک قوم دوسری کے ساتھ بد دیانتی کرے۔چنانچہ آیا ہے وَمِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ ج بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّةٍ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَابِمَا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّينَ سَبِيلٌ : اہل کتاب میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ اگر ان کے پاس خزانہ بھی رکھ دیا جائے تو واپس کر دیں۔مگر ان میں ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ایک دینار دیا جائے تو بھی اُس وقت تک ادانہ کریں جب تک تو ان پر کھڑا نہ رہے۔یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے ساتھ