سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 478

سيرة النبي علي 478 جلد 1 مت کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے اپنے پیروؤں کو یہ ہر گز حکم نہیں دیا کہ جو تم سے برسر پیکار نہیں اور لڑتے نہیں ان سے محض اس لئے لڑو کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ یہ بتایا ہے کہ جو تم سے لڑتے ہیں انہی سے لڑو اور ان پر بھی کسی قسم کی زیادتی نہ کرو۔اللہ اس کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔دیکھئے یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے۔اب اگر تمام مذاہب والے اس پر عمل کریں تو پھر آئے دن آپس میں لڑائیاں اور فساد کیوں ہوتے رہیں۔صلى الله اس کے متعلق رسول کریم اے کا عمل پیش کرتا ہوں۔حضرت عبد اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے جو بڑے بزرگ گزرے ہیں ان کے متعلق آیا ہے کہ وہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ بکری ذبح کی ہوئی ہے آپ نے پوچھا کیا اپنے یہودی ہمسائے کو گوشت بھیجا گیا ہے؟ کہا گیا نہیں۔انہوں نے کہا ابھی بھیجو۔میں نے رسول کریم ہے سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جبرئیل اتنی بار مجھے ہمسایہ سے سلوک کرنے کے متعلق حکم دینے کے لئے آیا ہے کہ میں نے خیال کیا کہ ہمسایہ کو وارث بنا دے گا6۔یہ ہے اسلام کی تعلیم ہمسایہ لوگوں کے متعلق۔اگر سب مذاہب والے اس پر عمل کریں اور تمدنی معاملات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں تو بہت جلدی اتفاق اور اتحاد پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ جس کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے وہ ضرور نرم ہو جاتا ہے اور جب کوئی نرم ہو جائے تو پھر کسی قسم کا جھگڑا پیدا نہیں ہوسکتا۔نیک سلوک تو الگ رہا اگر کوئی شرارت کر کے بھی نرم ہو جائے تو بھی دوسرے کا اس پر ہاتھ نہیں اٹھ سکتا۔ایک واقعہ میں اپنے متعلق سناتا ہوں۔ہم نے ایک چھوٹی سی کشتی بنائی ہوئی تھی۔گاؤں کے دوسرے لڑکے روز اسے پانی میں لے جاتے اور لے جا کر خراب کرتے تھے۔ایک دن میں نے لڑکوں کو کہہ دیا کہ جب وہ کشتی لینے آئیں تو مجھے اطلاع دینا۔دوسرے دن جب وہ آئے اور لڑکوں نے مجھے بتایا تو میں ان کے پاس گیا۔اور لڑ کے تو بھاگ گئے لیکن ایک کو میں نے پکڑ لیا۔اس نے میرے آگے منہ رکھ دیا اور کہنے لگا لو