سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 455

سيرة النبي علي 455 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ کی گہری فراست کا ایک واقعہ وو حضرت مصلح موعود نے 21 ستمبر 1918ء کو مولوی محمد علی صاحب کی ایک چٹھی کے جواب میں ” حقیقۃ الامر“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں رسول کریم ﷺ کی گہری فراست کا واقعہ یوں درج ہے:۔حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو بائبل پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس پر آپ کو ڈانٹا۔چنانچہ جابر سے روایت ہے اِنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ اللهُ بِنُسْخَةٍ مِّنِ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِّنَ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللهِ الا الله يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ثَكَلَتْكَ التَّوَاكِلُ مَاتَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللهِ الا الله فَنَظَرَ عُمَرُ إِلى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ لا فَقَالَ أَعُوذُ بِاللهِ وَ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَمِنْ غَضَبٍ رَسُولِه 1 - یعنی حضرت عمر رسول الله الله کے پاس آئے اور آپ کے پاس ایک نسخہ تو رات کا تھا۔آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو رات ہے۔رسول اللہ یہ خاموش رہے اور حضرت عمر نے اس کو پڑھنا شروع کیا اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔اس پر حضرت ابوبکر نے کہا رونے والیاں تم پر روئیں۔عمر! دیکھتے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے منہ اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ میں خدا اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔اب کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خطرہ تھا کہ حضرت عمر اس حق کو دیکھ کر نَعُوذُ باللہ اسلام سے بیزار ہو جاویں گے؟ کیا اس کی